قائما ثم قعد جاز عند ابی حنیفة رحمہ اللہ تعالی و قالا لا یجوز الا من عذر]٢٩٦[ (١٦)
ومن کان خارج المصر یتنفل علی دابتہ الی ای جھة توجھت یأمی ایمائ۔
وجہ (١) وجہ امام ابو حنیفہ : پہلے گزر چکا ہے کہ نفل میں کھڑا ہونا لازم نہیں ہے۔اس لئے جتنی دیر تک کھڑا رہا کھڑا رہا اور آگے کے کھڑے ہونے کو لازم نہیں کیا ہے۔اس لئے وہ بیٹھ سکتا ہے(٢) حدیث میں ہے عن عائشة ان رسول اللہ ۖ کان یصلی جالسا فیقرأ وھو جالس فاذا بقی من قرأتہ نحو من ثلثین آیة او اربعین آیة قام فقرأھا وھو قائم ثم رکع ثم سجد یفعل فی الرکعة الثانیة مثل ذلک (الف) (بخاری شریف ، باب اذا صلی قاعدا ثم صح او وجد خفة تمم ما بقی، ص ١٥٠ نمبر ١١١٩ مسلم شریف ، باب جواز النافلة قائما و قاعدا ص ٢٥٢ نمبر ٧٣١ ترمذی شریف ،باب من تطوع جالسا ص ٨٥ نمبر ٣٧٤) اس حدیث میں آپ نے بیٹھ کر بھی نماز پڑھی اور کھڑے ہو کر بھی جس کا مطلب یہ ہے کہ کھڑے ہو کر شروع کیا تو بیٹھ کر پوری کر سکتا ہے۔
فائدہ صاحبین فرماتے ہیں کہ کھڑے ہو کر نفل شروع کیا تو گویا کہ اس نے اپنے اوپر کھڑے ہونے کو لازم کیا تو گویاکہ یہ عملا نذر ہو گئی ۔اس لئے بغیر عذر کے بیٹھنا جائز نہیں ہے۔ قیاس کا تقاضا بھی یہی ہی۔حدیث میں ہے ۔سألنا عائشةعن صلوة رسول اللہ ۖ فقالت کان رسول اللہ یکثر الصلوة قائما وقاعدا فاذا افتتح الصلوة قائما رکع قائما واذا افتتح الصلوة قاعدا رکع قاعدا (مسلم شریف ، باب جواز النافلة قائما وقاعدا ص ٢٥٢ نمبر ٧٣٠) اس حدیث میں ہے کہ کھڑے ہو کر نماز شروع کرے تو کھڑے ہو کر ہی رکوع سجدہ کرتے تھے۔تا ہم حدیث کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ کھڑا تھا اور بیٹھ کر نماز پڑھی تو جائز ہو گی۔
]٢٩٦[(١٦)جو شہر سے باہر ہو وہ نفل پڑھ سکتا ہے سواری پر جس جانب بھی متوجہ ہو اشارہ کرکے۔
تشریح شہر سے باہر ہو تو نفل نماز سواری پر بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔اور سواری قبلہ کی طرف متوجہ نہ ہو تو ظاہر ہے کہ قبلہ کی جانب رخ نہیں کر سکے گا اس لئے قبلہ کی خلاف جانب رخ کرکے بھی نفل نماز پڑھ سکتا ہے۔ نیز سواری پر رکوع و سجدہ بھی پورے طور پر نہیں کر سکے گا تو اشارہ سے رکوع اور سجدہ کرے گا۔اس کی بھی گنجائش ہے۔
وجہ (١)نفل نماز ہر وقت پڑھ سکتا ہے اس کو زیادہ سے زیادہ پڑھے اس لئے یہ تمام سہولتیں شریعت نے دی ہے کہ خلاف قبلہ ہو،رکوع اور سجدہ کا اشارہ ہو۔سواری پر ہو تب بھی نفل نماز پڑھ سکتا ہے۔ فرض کے لئے قدرت ہو تو سواری سے اترے گا (٢) حدیث میں ہے جابر بن عبد اللہ اخبرہ ان النبی ۖ کان یصلی التطوع وھو راکب فی غیر القبلة (ب) (بخاری شریف ، باب صلوة التطوع علی الدواب حیثما توجھت بہ ص ١٤٨ نمبر ١٠٩٤ مسلم شریف ، باب جواز صلوة النافلة علی الدابة فی السفر حیث توجھت ص ٢٤٤ نمبر ٧٠٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبلہ کے رخ کے خلاف نفل نماز پڑھ لے تب بھی جائز ہوگی (٢) عامر بن ربیعة اخبرہ قال رأیت النبی ۖوھو
حاشیہ : (الف) آپۖ بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قرأت کرتے بیٹھے ہونے کی حالت میں ،پس جب کہ قرأت میں سے تقریبا تیس یا چالیس آیتیں باقی رہتی تو کھڑے ہوتے اور اس کو کھڑے ہونے کی حالت میں پڑھتے۔پھر رکوع پھر سجدہ کرتے،دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے(ب)آپۖ نفل نماز پڑھتے اس حال میں کہ سوار ہوتے قبلہ کے علاوہ کی جانب۔