Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 1 - یونیکوڈ

207 - 493
قائما ثم قعد جاز عند ابی حنیفة رحمہ اللہ تعالی و قالا لا یجوز الا من عذر]٢٩٦[ (١٦) 
ومن کان خارج المصر یتنفل علی دابتہ الی ای جھة توجھت یأمی ایمائ۔

وجہ  (١) وجہ امام ابو حنیفہ  :  پہلے گزر چکا ہے کہ نفل میں کھڑا ہونا لازم نہیں ہے۔اس لئے جتنی دیر تک کھڑا رہا کھڑا رہا اور آگے کے کھڑے ہونے کو لازم نہیں کیا ہے۔اس لئے وہ بیٹھ سکتا ہے(٢) حدیث میں ہے  عن عائشة ان رسول اللہ ۖ کان یصلی جالسا فیقرأ وھو جالس فاذا بقی من قرأتہ نحو من ثلثین آیة او اربعین آیة قام فقرأھا وھو قائم ثم رکع ثم سجد یفعل فی الرکعة الثانیة مثل ذلک (الف) (بخاری شریف ، باب اذا صلی قاعدا ثم صح او وجد خفة تمم ما بقی، ص ١٥٠ نمبر ١١١٩  مسلم شریف ، باب جواز النافلة قائما و قاعدا ص ٢٥٢ نمبر ٧٣١  ترمذی شریف ،باب من تطوع جالسا ص ٨٥ نمبر ٣٧٤) اس حدیث میں آپ نے بیٹھ کر بھی نماز پڑھی اور کھڑے ہو کر بھی جس کا مطلب یہ ہے کہ کھڑے ہو کر شروع کیا تو بیٹھ کر پوری کر سکتا ہے۔   
فائدہ  صاحبین فرماتے ہیں کہ کھڑے ہو کر نفل شروع کیا تو گویا کہ اس نے اپنے اوپر کھڑے ہونے کو لازم کیا تو گویاکہ یہ عملا نذر ہو گئی ۔اس لئے بغیر عذر کے بیٹھنا جائز نہیں ہے۔ قیاس کا تقاضا بھی یہی ہی۔حدیث میں ہے ۔سألنا عائشةعن صلوة رسول اللہ ۖ فقالت کان رسول اللہ یکثر الصلوة قائما وقاعدا فاذا افتتح الصلوة قائما رکع قائما واذا افتتح الصلوة قاعدا رکع قاعدا (مسلم شریف ، باب جواز النافلة قائما وقاعدا ص ٢٥٢ نمبر ٧٣٠) اس حدیث میں ہے کہ کھڑے ہو کر نماز شروع کرے تو کھڑے ہو کر ہی رکوع سجدہ کرتے تھے۔تا ہم حدیث کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ کھڑا تھا اور بیٹھ کر نماز پڑھی تو جائز ہو گی۔
]٢٩٦[(١٦)جو شہر سے باہر ہو وہ نفل پڑھ سکتا ہے سواری پر جس جانب بھی متوجہ ہو اشارہ کرکے۔  
تشریح  شہر سے باہر ہو تو نفل نماز سواری پر بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔اور سواری قبلہ کی طرف متوجہ نہ ہو تو ظاہر ہے کہ قبلہ کی جانب رخ نہیں کر سکے گا اس لئے قبلہ کی خلاف جانب رخ کرکے بھی نفل نماز پڑھ سکتا ہے۔ نیز سواری پر رکوع و سجدہ بھی  پورے طور پر نہیں کر سکے گا تو اشارہ سے رکوع اور سجدہ کرے گا۔اس کی بھی گنجائش ہے۔  
وجہ  (١)نفل نماز ہر وقت پڑھ سکتا ہے اس کو زیادہ سے زیادہ پڑھے اس لئے یہ تمام سہولتیں شریعت نے دی ہے کہ خلاف قبلہ ہو،رکوع اور سجدہ کا اشارہ ہو۔سواری پر ہو تب بھی نفل نماز پڑھ سکتا ہے۔ فرض کے لئے قدرت ہو تو سواری سے اترے گا (٢) حدیث میں ہے   جابر بن عبد اللہ اخبرہ ان النبی ۖ کان یصلی التطوع وھو راکب فی غیر القبلة (ب) (بخاری شریف ، باب صلوة التطوع علی الدواب حیثما توجھت بہ ص ١٤٨ نمبر ١٠٩٤  مسلم شریف ، باب جواز صلوة النافلة علی الدابة فی السفر حیث توجھت ص ٢٤٤ نمبر ٧٠٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبلہ کے رخ کے خلاف نفل نماز پڑھ لے تب بھی جائز ہوگی (٢) عامر بن ربیعة اخبرہ قال رأیت النبی ۖوھو

حاشیہ  :  (الف) آپۖ بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قرأت کرتے  بیٹھے ہونے کی حالت میں ،پس جب کہ قرأت میں سے تقریبا تیس یا چالیس آیتیں باقی رہتی تو کھڑے ہوتے اور اس کو کھڑے ہونے کی حالت میں پڑھتے۔پھر رکوع پھر سجدہ کرتے،دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے(ب)آپۖ نفل نماز پڑھتے اس حال میں کہ سوار ہوتے قبلہ کے علاوہ کی جانب۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 ( کتاب الطھارة ) 35 1
3 ( باب التیمم ) 73 2
4 (باب المسح علی الخفین) 82 2
5 (باب الحیض) 90 2
6 (باب الانجاس) 101 2
7 (کتاب الصلوة) 113 1
8 (باب الاذان) 121 7
9 (باب شروط الصلوة التی تتقدمھا) 127 7
10 (باب صفة الصلوة) 134 7
11 (باب قضاء الفوائت) 192 7
12 (باب الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة) 195 7
13 (باب النوافل) 200 7
14 (باب سجود السھو) 209 7
15 (باب صلوة المریض) 216 7
16 (باب سجود التلاوة) 221 7
17 (باب صلوة المسافر) 226 7
18 (باب صلوة الجمعة) 238 7
19 (باب صلوة العدین ) 250 7
20 ( باب صلوة الکسوف) 259 7
21 ( باب صلوة الاستسقائ) 263 7
22 ( باب قیام شہر رمضان) 265 7
23 (باب صلوة الخوف) 268 7
24 ( باب الجنائز) 273 7
25 ( باب الشہید) 291 7
26 ( باب الصلوة فی الکعبة) 295 7
27 ( کتاب الزکوة) 298 1
28 (باب زکوة الابل ) 303 27
29 (باب صدقة البقر ) 308 27
30 ( باب صدقة الغنم) 312 27
31 ( باب زکوة الخیل) 314 27
32 (باب زکوة الفضة) 322 27
33 ( باب زکوة الذھب ) 325 27
34 ( باب زکوة العروض) 326 27
35 ( باب زکوة الزروع والثمار ) 328 27
36 (باب من یجوز دفع الصدقة الیہ ومن لایجوز) 337 27
37 ( باب صدقة الفطر) 347 27
38 ( کتاب الصوم) 354 1
39 ( باب الاعتکاف) 378 38
40 ( کتاب الحج ) 383 1
41 ( باب القران ) 426 40
42 ( باب التمتع ) 433 40
43 ( باب الجنایات ) 442 40
44 ( باب الاحصار ) 471 40
45 ( باب الفوات ) 478 40
46 ( باب الھدی ) 481 40
Flag Counter