(٥٦٤)قال سجود التلاوة فی القراٰن اربعة عشر]١[ فی اٰخر الاعراف]٢[ وفی الرعد]٣[ والنحل ]٤[وبنی اسرائیل ]٥[ومریم ]٦[والاولیٰ من الحج ]٧[والفرقان ]٨[والنمل]٩[ والم تنزیل ]١٠[و ص]١١[ وحٰم السجدة ]١٢[والنجم]١٣[ واذا السمآء انشقت]١٤[ واقرأ۔ ١ کذا کتب فی مصحف عثمان وہو المعتمد ٢ والسجدة الثانیة فی الحج للصلوٰة۔
]١٣[ و اذا قریء علیھم القرآن لا یسجدون ( اذا السماء انشقت ٨٤ آیت٢١ )
]١٤[ و اسجدواقترب ( سورة علق٩٦ آیت ١٩)
ترجمہ: (٥٦٤) سجدہ تلاوت قرآن کریم میں چودہ جگہیں ہیں ]١[ سورہ اعراف کے آخیر میں ]٢[ سورہ رعد میں ]٣[ النحل میں ]٤[ بنیاسرائیل میں ]٥[ سورہ مریم میں ]٦[ سورہ حج کی پہلے سجدے میں ]٧[ سورہ فرقان میں ]٨[ سورہ نمل میں ]٩[ الم تنزیل میں ]١٠[ سورہ ص میں
]١١[ سورہ حم سجدہ میں ]١٢[ سورہ نجم میں ]١٣[ سورہ اذا السماء انشقت میں ]١٤[ اور سورہ اقرأ باسم میں ۔
ترجمہ: ١ حضرت عثمان کے مصحف میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے ، اور اسی پر اعتماد ہے ۔
تشریح : یہ چودہ سورتیں ہیں جن میں چودہ آیتیں ہیں جنکے پڑھنے سے سجدہ واجب ہو تا ہے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قرآن کریم میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے ۔ اور اسی پر اعتماد ہے ۔
وجہ : (١) اس حدیث میں ہے کہ قرآن کریم میں پندرہ سجدے ہیں ، حدیث ہے ۔ عن عمر وبن العاص أن النبی ۖ أقرأہ خمس عشرة سجدة فی القرآن ، منھا ثلاث فی المفصل ، و فی سورة الحج سجدتان ۔ ( ابو داود شریف ، باب تفریع ابواب السجود و کم سجدة فی القرآن ؟ ، ص ٢١٠، نمبر ١٤٠١ ابن ماجة ، باب عدد سجود القرآن ، ص ١٤٨، نمبر ١٠٥٧) اس حدیث میں ہے کہ قرآن کریم میں پندرہ سجدے ہیں ، البتہ ہمارے یہان سورہ حج میں ایک ہی سجدہ ہے اسلئے کل چودہ سجدے رہ گئے ۔
ترجمہ : ٢ اور دوسرا سجدہ سورہ حج میں حنفیہ کے یہاں نماز کے لئے ہے ۔
تشریح : سورہ حج میں دو جگہ سجدے کی آیت ہے ۔ اس میں سے پہلی جگہ حنفیہ کے یہاں سجدہ تلاوت کے لئے ہے یعنی اس آیت کی تلاوت کرے گا تو سجدہ تلاوت واجب ہو گا۔ وہ آیت یہ ہے ۔ ]٦[ الم ترا ان اللہ یسجد لہ من فی السمٰوات و من فی الارض و الشمس و القمر و النجوم و الجبال و الشجرو الدواب و کثیر من الناس ( سورة الحج ٢٢، آیت ١٨)
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ اثر ہے عن سعید بن المسیب والحسن قالا فی الحج سجدة واحدة الاولی منھا