کرے۔ اور سلام پھیرے ۔ حنفیہ کے نزدیک تشہد پڑھ کر دائیں جانب ایک سلام کرے پھر دو سجدۂ سہو کرے پھر دوبارہ تشہد پڑھے،درود پڑھے ،دعا پڑھے اور دو بارہ دونوں جانب سلام کرے۔
وجہ: (١)اوپر کی حدیث میں اس کا ثبوت ہے کہ آپۖ نے کمی زیادتی میں سلام کیا ہے پھر سجدۂ سہو کیا ہے اور پھر دو بارہ سلام کیا ہے۔عن عمران بن حصین قال سلم رسول اللہ ۖ فی ثلاث رکعات من العصر ثم قام فدخل الحجرة فقام رجل بسیط الیدین فقال اقصرت الصلوة یا رسول اللہ فخرج مغضبافصلی الرکعة التی کان ترک ثم سلم ثم سجد سجدتی السہو ثم سلم (مسلم شریف ،باب فصل من ترک الرکعتین او نحوھما فلیتم ما بقی ویسجد سجدتین بعد التسلیم ،ص ٢١٤ ،نمبر ٥٧٤ ١٢٩٤ بخاری شریف ، باب ھل یأخذ الامام اذا شک بقول الناس، ص ٩٩، نمبر ٧١٤ ترمذی شریف ،باب ما جاء فی الامام ینہض فی الرکعتین ناسیا ،ص ٨٣ نمبر ٣٦٤ ابو داؤد شریف ، باب السھو فی السجدتین ،ص ١٥٣ ،نمبر٨ ١٠١اس باب کی آخری حدیث ہے) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی واجب بھول جائے تو سلام کرے پھر سجدۂ سہو کرے پھر سلام پھیرے۔(٢)صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے۔ عن ثوبان عن النبی ۖ قال : (( لکل سھو سجدتان بعد ما یسلم )) ۔ ( ابو داود شریف ، باب من نسی أن یتشھد و ھو جالس ، ص ١٥٧، نمبر ١٠٣٨ابن ماجة شریف ، باب ما جاء فیمن سجد ھما بعد السلام ، ص ١٧١، نمبر ١٢١٩) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کے بعد سجدہ سہو کرے ۔(٣)زیادہ ہونے پر سجدۂ سہو کیا ہو اس کی دلیل یہ حدیث ہے عن عبد اللہ قال صلی النبی ۖ الظہر خمسا فقالوا ازید فی الصلوة؟ قال وما ذاک قالوا صلیت خمسا قال فثنی رجلہ وسجد سجدتین (بخاری شریف ، باب ما جاء فی القبلة ومن یر الاعادة علی من سھی ص ٥٨ نمبر ٤٠٤ مسلم شریف ، باب من صلی خمسا او نحوہ ص ٢١٢ نمبر ١٢٨٣٥٧٢) اس حدیث میں پانچ رکعت پڑھنے پر آپۖ نے سجدۂ سہو کیا ہے جو زیادہ کرنے پر سجدۂ سہو ہوا۔(٤)کمی پر سجدۂ سہو کی دلیل یہ حدیث ہے عن عبد اللہ بن بحینة انہ قال صلی لنا رسول اللہ ۖ رکعتین ثم قام فلم یجلس فقام الناس معہ فلما قضی صلوتہ وانتظر نا التسلیم کبر فسجد سجدتین وھو جالس قبل التسلیم ثم سلم صلی اللہ علیہ وسلم (ابو داؤد شریف ، باب من قام من ثنتین ولم یتشہد ص ١٥٥ نمبر ١٠٣٤ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الامام ینھض فی الرکعتین ناسیا، ص ٨٣، نمبر ٣٦٤ نسائی شریف ،باب ما یفعل من قام من اثنتین ناسیا ولم یتشھد ص ١٣٧ نمبر ١٢٢٣) اس حدیث میں کمی ہونے پر سجدہ کیا،قعدۂ اولی نہ کرنے اور تشہد نہ پڑھنے پر سجدہ کیا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ قعدۂ اولے اور تشہد کا پڑھنا واجب ہے تو واجب کے چھوڑنے پر سجدۂ سہو کیا۔ دو سلاموں کے درمیان دو بارہ تشہد پڑھے (٥) اس کی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن عمران بن حصین ان النبی ۖ صلی بھم فسھا فسجد سجدتین ثم تشھد ثم سلم (ابو داؤد شریف ، باب سجدتی السہو فیھما تشھد وتسلیم ص ١٥٦ نمبر ١٠٣٩ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی التشہد فی سجدتی السہو ص ٩٠ نمبر ٣٩٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دونوں سلاموں کے درمیان تشہد دو بارہ پڑھے گا۔اور تشہد پڑھے گا تو اخیر میں درود شریف اور دعا بھی پڑھے۔پہلا