ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2006 |
¾اكستان Ù |
|
(٢) صحیح بخاری شریف کی روایت ہے کہ آپ ۖ نے فرمایا کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی اُس کا حشر اُسی قوم کے ساتھ ہوگا، اس حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں چاہیے اس ہندو وانہ رسم کو نہ صرف خود چھوڑیں بلکہ اِس کی ڈٹ کر مخالفت بھی کریں۔ (٣) صحیح بخاری شریف ہی کی ایک دوسری روایت ہے جس میں حضرت نبی اکرم ۖ نے یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرنے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ اِن کی مخالفت کرو، ڈاڑھیاں بڑھائو اور مونچھیں چھوٹی کرو، جب یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا گیا تو اِس میں یہی حکمت کار فرما تھی کہ مسلمان اِن کے ساتھ مشابہت نہ رکھیں بلکہ مسلمان کو اِن سے ممتاز اور علیحدہ رہنا چاہیے، یہود کی طرح ہنود کی رسم بد کو بھی بیخ و بن سے اُکھاڑ پھینکنا چاہیے۔ (٤) مسلم شریف کی ایک روایت میں مسلمانوں کو اہل کتاب کے ساتھ معمولی سی مشابہت رکھنے سے بھی روک دیا گیا ہے، عمرو بن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے، اہل کتاب دن رات کا روزہ رکھتے ہیں، سحری نہیں کھاتے، اس لیے فرمایا گیا کہ تم سحری کھایا کرو۔ (٥) حضرت نبی اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو فقیری سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔ (مشکوٰة شریف) اس مقام پر فراغت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت سمجھنے کا حکم دیا گیا۔ اس فراغت کو غنیمت سمجھنے کا مطلب اپنے کو ہر دم یادِ خدا میں مشغول رکھنا ہے، لہو و لعب اور پتنگ بازی میں اس فراغت کا استعمال وقت کا زیاں ہے۔ اگر انسان یونہی فضول کاموں میں وقت ضائع کریگا تو بارگاہ رب العالمین میں اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (٦) لاکھوں روپے کے پتنگ اور ڈوریں استعمال کی جاتی ہیں، جن کا دنیوی فائدہ ہے اور نہ ہی اُخروی، سوائے فضول خرچی کے اِسے کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا اور فضول خرچی کرنے والے کو رب العالمین نے شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔ اس لیے برادر شیطان کہلوانے سے بہتر ہے کہ مسلمان اس کام کو ترک کردیں۔ (٧) بارگاہ ِایزدی میں انسان سے یہ سوال بالکل نہیں پوچھا جائے گا کہ اُس نے کتنی پتنگیں اُڑائی تھیں اور کتنے پیچے اُڑائے تھے اور کتنوں کے پتنگ کاٹے تھے، اس کے برعکس بارگاہِ خداوندی سے ابن آدم کو اس وقت