Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2006

¾اكستان Ù

54 - 64
	(٢)  صحیح بخاری شریف کی روایت ہے کہ آپ  ۖ نے فرمایا کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی اُس کا حشر اُسی قوم کے ساتھ ہوگا، اس حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں چاہیے اس ہندو وانہ رسم کو نہ صرف خود چھوڑیں بلکہ اِس کی ڈٹ کر مخالفت بھی کریں۔ 
	(٣)  صحیح بخاری شریف ہی کی ایک دوسری روایت ہے جس میں حضرت نبی اکرم  ۖ نے یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرنے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ اِن کی مخالفت کرو، ڈاڑھیاں بڑھائو اور مونچھیں چھوٹی کرو، جب یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیا گیا تو اِس میں یہی حکمت کار فرما تھی کہ مسلمان اِن کے ساتھ مشابہت نہ رکھیں بلکہ مسلمان کو اِن سے ممتاز اور علیحدہ رہنا چاہیے، یہود کی طرح ہنود کی رسم بد کو بھی بیخ و بن سے اُکھاڑ پھینکنا چاہیے۔ 
	(٤)  مسلم شریف کی ایک روایت میں مسلمانوں کو اہل کتاب کے ساتھ معمولی سی مشابہت رکھنے سے بھی روک دیا گیا ہے، عمرو بن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ۖ نے ارشاد فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے، اہل کتاب دن رات کا روزہ رکھتے ہیں، سحری نہیں کھاتے، اس لیے فرمایا گیا کہ تم سحری کھایا کرو۔ 
	(٥)  حضرت نبی اکرم  ۖ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو فقیری سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔ (مشکوٰة شریف) 
	اس مقام پر فراغت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت سمجھنے کا حکم دیا گیا۔ اس فراغت کو غنیمت سمجھنے کا مطلب اپنے کو ہر دم یادِ خدا میں مشغول رکھنا ہے، لہو و لعب اور پتنگ بازی میں اس فراغت کا استعمال وقت کا زیاں ہے۔ اگر انسان یونہی فضول کاموں میں وقت ضائع کریگا تو بارگاہ رب العالمین میں اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ 
	(٦)  لاکھوں روپے کے پتنگ اور ڈوریں استعمال کی جاتی ہیں، جن کا دنیوی فائدہ ہے اور نہ ہی اُخروی، سوائے فضول خرچی کے اِسے کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا اور فضول خرچی کرنے والے کو رب العالمین نے شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔ اس لیے برادر شیطان کہلوانے سے بہتر ہے کہ مسلمان اس کام کو ترک کردیں۔ 
	(٧)  بارگاہ ِایزدی میں انسان سے یہ سوال بالکل نہیں پوچھا جائے گا کہ اُس نے کتنی پتنگیں اُڑائی تھیں اور کتنے پیچے اُڑائے تھے اور کتنوں کے پتنگ کاٹے تھے، اس کے برعکس بارگاہِ خداوندی سے ابن آدم کو اس وقت
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 حضرت حفصہ کا اشکال : 6 3
5 اشکال کا جواب : 6 3
6 جہنم کی آگ کی مثال : 6 3
7 مثال سے وضاحت : 7 3
8 مومن کا اثر آگ پر پڑے گا : 7 3
9 اندازِ بیان : 8 3
10 بیعت ِرضوان کی وجہ اور حضرت عثمان پر اعتراض کا جواب : 8 3
11 سکینہ ایک بہت بڑی دولت ہے : 9 3
12 حضرت عثمان کی خصوصی فضیلت 9 3
13 وفیات 10 1
14 انسانی عادات اور اللہ کا عذاب 11 1
15 افتتاحی خطاب 16 1
16 شہید کی پیشی : 16 15
17 اللہ کی طرف سے سوال : 17 15
18 شہید کا جواب : 17 15
19 اللہ کی طرف سے نامنظوری : 18 15
20 ملک و قوم سے پہلے اِسلام کا درجہ ہے : 19 15
21 شہید کی نیت کی خرابی اور جہنم کا حکم : 19 15
22 اللہ کے دربار میں عالِم کی پیشی : 20 15
23 نعمتوں کی کیا قدر دانی کی ؟ 21 15
24 اللہ تعالیٰ عالم کو جھٹلادیں گے : 21 15
25 عالِم کے لیے جہنم کا حکم : 23 15
26 نیت کی اصلاح کی ضرورت ہے : 23 15
27 بزرگوں کا عمل : 24 15
28 ترغیب .......... طلباء کے لیے مختصر معمولات : 25 15
29 فجر کے وقت : 26 15
30 ظہر کے وقت : 26 29
31 عصر کے وقت : 27 29
32 مغرب کے وقت : 27 29
33 عشاء کے وقت : 28 29
34 جمعہ کے دِن کاخاص عمل : 29 29
35 ماہ ِذی الحجہ کے فضائل و احکام 32 1
36 ماہ ِذی الحجہ کی لفظی و معنوی تحقیق : 32 35
37 ماہِ ذی الحجہ کی فضیلت : 32 35
38 تشریح : 33 35
39 ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی فضیلت : 36 35
40 پہلے عشرہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنا : 39 35
41 ٩ ذی الحجہ کے روزہ کے فضائل و احکام : 40 35
42 تکبیر تشریق (٩ تا ١٣ ذی الحجہ) : 41 35
43 تکبیر تشریق کی حکمت : 42 35
44 تکبیر تشریق کے احکام : 42 35
45 عید الاضحی کی رات کے فضائل : 43 35
46 حج و قربانی ماہِ ذی الحجہ کی خاص عبادت : 45 35
47 حج کے فضائل : 46 35
48 ''حج'' اسلام کا اہم رُکن اور فریضہ : 46 35
49 حج کس پر فرض ہے ؟ 47 35
50 قربانی کے فضائل : 49 35
51 بسنت کا تہوار 51 1
52 عید بسنت 51 51
53 پتنگ بازی کی خرابیاں : 52 51
54 بیان کرتے ہیں : 52 51
55 شریعت کیا کہتی ہے ؟ 53 51
56 گلدستہ ٔ احادیث 56 1
57 دو آنکھیں 56 56
58 دو قدم 57 56
59 دو گھونٹ 57 56
60 بقیہ : بسنت کا تہوار 57 51
61 نبوی لیل ونہار 58 1
62 دینی مسائل 60 1
63 ( نفل نماز کے احکام ) 60 62
64 بعض خاص نفل نمازیں : 61 62
65 (١) تحیة الوضو : 61 62
66 ) تحیة المسجد : 62 62
67 (٣) اشراق کی نماز : 62 62
68 (٤) چاشت کی نماز : 62 62
69 (٥) اوابین کی نماز : 63 62
70 (٦) تہجد کی نماز : 63 62
Flag Counter