ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2006 |
¾اكستان Ù |
|
لہٰذا ذی الحجہ کے بابرکت مہینے کی قدر کرتے ہوئے گناہوں سے بچنے اور نیکی و تقوے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ گزشتہ تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ ذی الحجہ کا مہینہ عظمت و شرافت والے مہینوں میں سے ہے جن کو عربی میں حرمت والے مہینے کہا جاتا ہے، اور اِن مہینوں میں عبادت و طاعت کی خاص فضیلت اسلام میں اب بھی باقی ہے، اور روزہ بھی عبادت و طاعت میں داخل ہے، اس نقطۂ نظر سے اس مہینہ میں روزہ رکھنا بھی باعث فضیلت ہے اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھنے کا بطورِ خاص بعض احادیث میں ذکر بھی ملتا ہے، نیز بعض محدثین و فقہاء کرام کی تصریحات سے بھی حرمت والے مہینوں میں روزے رکھنے کا مستحب و مندوب ہونا ثابت ہے۔ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صُمْ شَھْرَ الصَّبْرِ وَ یَوْمًا مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ قَالَ زِدْنِیْ فَاِنَّ بِیْ قُوَّةً قَالَ صُمْ یَوْمَیْنِ قَالَ زِدْنِیْ قَالَ صُمْ ثَلاثَةَ اَیَّامٍ قَالَ زِدْنِیْ قَالَ صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُکْ صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُکْ صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُکْ وَقَالَ بِاَصَابِعِہِ الثَّلاَ ثَةِ فَضَمَّھَا ثُمَّ اَرْسَلَھَا (ابوداو د فی صوم اشھر الحرم واللفظ لہ۔ ابن ماجہ فی صیام اشھر الحرم و مسند احمد) '' حضور اکرم ۖ نے (ایک صحابی کو خطاب کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا کہ صبر یعنی رمضان کے مہینے کے روزے رکھو اور ہر مہینے میں ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو، اُن صحابی نے عرض کیا کہ مجھے اِس سے زیادہ کی طاقت ہے لہٰذا میرے لیے اور اضافہ کردیجیے۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ ہر مہینے میں دو دن روزہ رکھ لیا کیجیے، پھر اُن صحابی نے عرض کیا کہ میرے لیے اور اضافہ فرمادیجیے (کیونکہ مجھے اِس سے زیادہ کی طاقت ہے) آپ ۖ نے ارشاد فرمایا کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کیجیے، پھر اُن صحابی نے عرض کیا کہ میرے لیے اور اضافہ فرمادیجیے تو آپ ۖ نے ارشاد فرمایا کہ اشھر حرم (ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینوں) میں روزہ رکھو اور چھوڑو (آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی) اور آپ نے اپنی تین اُنگلیوں سے اشارہ فرمایا اُن کو ساتھ ملادیا پھر چھوڑدیا) مطلب یہ تھا کہ اِن مہینوں میں تین دن روزہ رکھو پھر تین دن ناغہ کرو اور اِسی طرح کرتے رہو)۔'' فائد ہ : حدیث میں ان چار مہینوں کے اندر روزہ رکھنے کا جو طریقہ بتلایا گیا ہے ضروری نہیں کہ ہر شخص