افراط اور غلو کی لعنت
انسان کا معاملہ بڑا عجیب وغریب ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ زندگی محدود ہے، دنیا کا قیام بیحد مختصر ہے، اور اس دنیا سے جانا ضرور ہے، مگر پھر بھی اس کی امیدیں لامحدود ہیں ، اس کی تمنائیں اور آرزوئیں لامتناہی ہیں ، وہ خواہشوں اور توقعات میں اس طرح پور پور ڈوبا ہوا ہے جیسے کہ دوام وبقاء اس کا مقدر ہو اور اسے اِس دنیا میں ابد تک رہنا ہو۔
وہ کسی چیز کو چاہتا ہے اور محبت کرتا ہے تو انتہا تک پہونچتا ہے اور اس قدر افراط میں مبتلا ہوجاتا ہے جیسے اس کی محبوب شئ اور محبوب شخص میں خوبی ہی خوبی ہے، چاشنی ہی چاشنی ہے، کوئی خامی اور ترشی نہیں ، اور جس سے نفر ت کرتا ہے تو بھی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتا ہے اور نفرت میں اتنا غلو کرتا ہے جیسے کہ اس قابل نفرت شئ اور شخص میں خامی ہی خامی ہے، کوئی خوبی نہیں ، اپنی رائے کی تائید اتنی قوت سے کرتا ہے جیسے وہی حق ہے اور اس کے سوا سب غلط ہے، کسی رائے کی تردید کرتا ہے تو انداز یہ ہوتا ہے کہ وہ سراسر باطل ہے، حق ہونے کا ادنیٰ احتمال بھی اس میں نہیں پایا جاتا۔
یہی وہ غلو اور افراط ہے جو حقائق کو مسخ کرتا ہے، سچائی کو بدل دیتا ہے، درستگی کو پلٹ دیتا ہے، مشکلات میں مبتلا کردیتا ہے تعلقات کو منقطع کردیتا ہے اور بغض وعداوت کی تخم ریزی کرتا ہے۔
ہماری سیاسی، علمی، ادبی ہر تاریخ افراط کے ان مظاہر سے پر ہے، محبت وعداوت میں اس افراط نے انتہائی دور رس، مؤثر عداوتوں اور تنازعوں کو جنم دیا ہے، اور اس کے نتیجہ میں حق