زاہد کے اوصاف
ارشادِ نبوی ہے:
أَزْہَدُ النَّاسِ مَنْ لَمْ یَنْسَ الْقَبْرَ وَالْبِلیٰ وَتَرَکَ أَفْضَلَ زِیْنَۃِ الدُّنْیَا، وَآثَرَ مَا یَبْقیٰ عَلیٰ مَا یَفْنیٰ، وَلَمْ یَعُدَّ غَداً مِنْ أَیَّامِہٖ، وَعَدَّ نَفْسَہٗ فِیْ الْمَوْتیٰ۔ (فیض القدیر:۱/۶۱۷ بحوالہ شعب الایمان للبیہقی)
ترجمہ: لوگوں میں سب سے بڑا زاہد وہ ہے جو قبر اور بوسیدگی کو فراموش نہ کرے، دنیوی زندگی کی عمدہ ترین آرائش وزیبائش کو چھوڑدے، باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دے، اپنی زندگی کے اگلے دن کو شمار نہ کرے، اوراپنا شمار مردوں میں کرلے۔
زہد کی حقیقت یہ ہے کہ انسان دنیوی لذتوں میں اشتغال سے آخرت کے لئے بے رغبت ہوجائے اور عیش وتنعم کی زندگی سے دست بردار ہوجائے، قرآن وحدیث کے متعدد نصوص میں زہد کی تلقین وتعریف کا مضمون اور اس کے فوائد واثرات کا بیان آیا ہے اور دنیوی لذتوں میں انہماک سے سختی سے روکا اور اس کی مذمت ومضرت کا ذکر کیا گیا ہے۔
زہد کو خدا اور خلق خدا کی محبوبیت کا ذریعہ بتایا گیا ہے، حضرت سہل بن سعدؓ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب سے فرمایا:
اِزْہَدْ فِیْ الدُّنْیَا یُحِبَّکَ اللّٰہُ، وَازْہَدْ فِیْ مَا عِنْدَ النَّاسِ یُحِبَّکَ النَّاسُ۔ (ترمذی شریف)