خدا ترسی
خوف خدا اور فکر آخرت وہ چیزیں ہیں جو ایمان کے بعد حیات انسانی کی اصلاح، آراستگی اور کامیابی میں سب سے اہم اور کلیدی رول ادا کرتی ہیں ، اللہ کا خوف اور اس کے عذاب وعقاب اور گرفت سے ڈرنا ہی انسان کی نجات اورفلاح کی اساس ہے، ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ کے خوف سے کسی بندہ کے جسم کا رونگٹا کھڑا ہوجاتا ہے تو اس وقت اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جیسے پرانے بوسیدہ درخت کے پتے جھڑتے ہیں ، ایک دوسری حدیث میں اللہ کے خوف اور اس کی ہیبت سے آنکھوں کے اشکبار ہونے اور آنسوؤں کے ڈھلک کے رخسار پر آجانے پر نارِ جہنم کے حرام ہوجانے کی اہل ایمان کو بشارت دی گئی ہے، قرآن کریم میں بھی معیار فضیلت خدا ترسی ہی کو قرار دیا گیا ہے:
إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ أَتْقَاکُمْ۔ (الحجرات: ۱۳)
ترجمہ: تم میں سب سے معزز اللہ کی بارگاہ میں وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی ابن کعبؓ سے پوچھا ’’تقویٰ کی حقیقت کیا ہے‘‘؟ انہوں نے فرمایا: کیا کبھی آپ کا گزر خار دار راہوں سے ہوا ہے؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا: بارہا میرا گزر ہوا ہے، حضرت ابی بن کعبؓ نے کہا: ایسے میں آپ نے کیا کیا؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا: میں نے اس میں پوری کوشش صرف کرڈالی کہ کانٹوں سے الجھے بغیر سلامتی سے باہر نکل آؤں ، اس پر حضرت ابیؓ نے فرمایا: بس یہی تقویٰ کی حقیقت ہے۔