آزمائش کا موقعہ تھا، اس موقعے پر اہل نفاق کا حال قرآن یوں بتاتا ہے کہ:
وَطَآئِفَۃٌ قَدْ أَہَمَّتْہُمْ أَنْفُسُہُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاہِلِیَّۃِ۔ (آل عمران: ۱۵۴)
ترجمہ: ایک گروہ جس کے لئے (دین کے بجائے) ساری اہمیت بس اپنے نفس وذات کی تھی، اللہ کے متعلق جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلافِ حق تھا۔
نفس کے روگ بے شمار ہیں جن کا یہاں احاطہ نہیں ہوسکتا، چند نمایاں بیماریوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
(۱) سستی اور بزدلی:
سستی غفلت پیدا کرتی ہے، ہمت وعزم کو مارڈالتی ہے، اور انسان کو پست وذلیل کردیتی ہے، اپنے قولی وعملی فرائض کی ادائیگی سے سستی برتنے والا انسان بے عزت اور بدنام ہوجاتا ہے، یہ روگ جس کو لگ جاتا ہے اس کے ساتھ بدنامی کا بدنما داغ ضرور لگ جاتا ہے، یہی حال بزدلی کا ہے، حکماء کے بقول بزدلی ایمان کے منافی ہے، بزدل آدمی جہاد فی سبیل اللہ کی عظیم ترین عبادت سے محروم رہتا ہے۔
(۲) کینہ اور بغض:
یہ بہت بڑے نفسانی روگ ہیں ، یہ اَنا پرستی اور دوسروں سے لاتعلقی کی واضح علامت ہوتے ہیں ، ایمان اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب آدمی کا دل ونفس کینہ، کھوٹ اور کپٹ سے خالی ہو، اس کے بغیر حصولِ جنت ناممکن ہے۔
(۳) حرص وطمع:
لالچ اورحرص انسان کا بہت بڑا عیب ہے، اس کا تعلق بھی نفس وقلب سے ہے، سچا