قول وعمل
یہ آوازیں تو آئے دن سنائی پڑتی ہیں کہ مسلمان اس وقت اپنی بے حسی اور دنیا پرستی کی آخری حدیں عبور کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہر جگہ بے حیثیت ہیں ، مذہب بیزاری نے انہیں رسوا کرڈالا ہے، یہ خیالات مفروضہ نہیں بلکہ حقائق ہیں جن کا مشاہدہ ہم بچشم خود جب چاہیں کرسکتے ہیں ، لیکن اپنی ذمہ داری بھی محض حالات کے مشاہدہ اور تبصرہ پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ خیر امت کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنی عملی زندگی کی اصلاح کے بعد اصلاح عام کا علم لے کر اٹھ کھڑا ہونے کا ذمہ دار بھی بنایا گیا ہے، ظاہر ہے کہ معاشرہ افراد کے مجموعہ کا نام ہے، ہر فرد اصلاح ذات کے بعد اصلاح عام میں دلچسپی لے گا تبھی معاشرہ سدھر پائے گا، ورنہ محض تنقید تو کچھ بھی سود مند نہیں ثابت ہوسکتی۔
مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینے سے ہمارے سامنے تین طرح کے مسلمان طبقات ظاہر ہوتے ہیں ، اب ہمیں ان ہی کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس طبقہ میں ہیں اور ہمیں کیا کرنا ہے؟ پہلا طبقہ تو ان حضرات کا ہے جن کے پاس زبانی دعوؤں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، عمل سے ان کی زندگی بالکل خالی اور محروم ہے، بدقسمتی سے اکثریت اسی طبقہ کو حاصل ہے، ان کی دل ربا، لچھے دار اور جادو اثر گفتگو سے ہر خاص وعام متأثر ہوجاتا ہے، مسلمانوں کی حالت زار پر اظہار تاسف، فلسفۂ اسلام کی تشریح اور دانشمندانہ تجاویز پر مشتمل باتیں ان کی زبانوں سے ہمہ وقت نکلتی رہتی ہیں مگر ان کی اپنی عملی زندگی انتہا درجہ مایوس کن نظر آتی ہے، طرفہ تماشا یہ ہے کہ وہ خود اپنی ذمہ داریاں صرف قول تک محدود باور کرتے ہیں ، اور