بندۂ مؤمن کے پانچ دشمن
ایک بندۂ مؤمن کو اپنی زندگی اور ایمانی ترقی کی راہ میں عام طور پر پانچ دشمنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پہلا دشمن تو اس کی خواہشات نفس ہیں ، دوسرا دشمن شیطان ہے، تیسرا دشمن کفار ہیں ، چوتھا دشمن منافقین ہیں ، اورپانچواں دشمن ظالم وفاسق افراد ہیں ، ایمان کا مطالبہ یہ ہے کہ ان پانچوں دشمنوں سے جہاد اور مقابلہ کیا جائے، مگر جہاد کی نوعیت الگ الگ ہوگی جس کی کچھ وضاحت ذیل میں کی جارہی ہے۔
(۱) جہادِ نفس:
اس کی چند صورتیں ہیں :
(۱) حصول علم دین: یعنی قرآن وسنت اور سیرت صحابہ وسلف صالح کی روشنی میں دین حق اور ہدایت کو سیکھا جائے، تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ نفس کی خواہشات کو لگام دی جاسکے گی، حصولِ علم جہادِ نفس کا نقطۂ آغاز ہے، جہالت عام طور پر نفسانی خواہشات کا غلام اوراسیر بنادیتی ہے۔
(۲) عمل صالح پر مداومت: علم ومعرفت اس وقت تک سود مند اور بار آور نہیں ہوسکتے جب تک عمل صالح کی پابندی نہ کی جائے، بلکہ بقول عربی شاعر: ؎
لَوْ کَانَ لِلْعِلْمِ مِنْ دُوْنِ التُّقیٰ شَرَفٌ
لَکَانَ أَشْرَفَ خَلْقِ اللّٰہِ إِبْلِیْسُ
ترجمہ: اگر بغیر عمل وتقویٰ کے علم کا کوئی شرف اور مقام ہوتا تو اللہ کی مخلوق میں سب سے معزز ابلیس ہوتا۔