نفس پرستی
مؤمن صادق کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ خیر پسند، شر سے نفور وگریزاں ہوتا ہے، اس کا دل تعلیماتِ نبوت پر مطمئن ہوتا ہے، جس شخص میں خیر پسندی،شر سے گریز اور ہدایاتِ نبوت پر اطمینان کا جوہر مفقود ہو تو اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ منافق ہے۔
دراصل خواہشِ نفس وہ بلا ہے جو انسان کو گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر لے جاتی ہے، قرآن کریم میں خواہش پرستوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
أَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰہَہٗ ہَوَاہُ، وَأَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلیٰ عِلْمٍ، وَخَتَمَ عَلیٰ سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ، وَجَعَلَ عَلیٰ بَصَرِہٖ غِشَاوَۃً، فَمَنْ یَّہْدِیْہِ مِنْ بَعْدِ اللّٰہِ، أَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ۔ (الجاثیۃ: ۲۳)
ترجمہ: پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنالیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب کون ہے جو اُسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟
اس آیت میں کافروں کے چار اوصاف کا بیان ہوا ہے:
(۱) خواہش پرستی۔
(۲) دانستہ گمراہی وبے راہ روی۔
(۳) دلوں اور کانوں پر منجانب اللہ مہر کا لگ جانا۔