اس کو کمائی کا ایک ذریعہ بھی بنالیا گیا ہے، اور خیانت کے طریقے سکھانے والوں نے لاکھوں ڈالر کمالئے ہیں ۔
ابھی حال ہی میں سوڈان میں خرطوم کے گورنر ڈاکٹر مجذوب نے ایک قانون پاس کیا ہے جس میں ہوٹلوں وغیرہ میں عورتوں کو ملازمت سے روک دیا گیا ہے، اس قانون کو وہاں کے علماء اور ائمہ نے پوری طرح قبول کیا ہے اور اسے خوش آئند اقدام قرار دیا ہے، مگر اس پر مغربی میڈیا بڑے شدومد سے جھنجھلارہا ہے اور اسے آزادئ نسواں پر حملہ قرار دے رہا ہے۔
مغرب کی ازدواجی زندگی میں صرف جنسی تسکین ہی مرکزی اہمیت رکھتی ہے، وہاں آزادانہ اختلاط ترقی یافتہ ہونے کی علامت ہے، اور اسی آزادی کی دعوت اہل مغرب ہر طرح کے وسائل استعمال کرکے دے رہے ہیں ، میڈیا کا تمام تر زور اسی پر ہے، اور وہ فحاشی، آوارگی، عریانیت کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔
باعث افسوس بات یہ ہے کہ یہ دعوت قبول عام حاصل کررہی ہے، اور اسلامی ممالک میں بھی اس وباء کی شدت کچھ کم نہیں ہے، فرزندانِ توحید جو ایسے نظام کے حامل ہیں جو سراپا خیر واعتدال ہی ہے اور تمام مسائل کا حل ہے ان کا اپنے تہذیبی ومعاشرتی اقدار سے غافل ہوکر مغربی نظام کے پیچھے دوڑنا ایک عجیب وغریب سانحہ ہے، اور اسی میں ان کے زوال اور ضعف کا راز بھی مضمر ہے۔
mvm