اعلیٰ انسانی کردار
صاحب ایمان بندوں کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ناموافق سے ناموافق حالات میں انتہائی جذباتی صورتِ حال میں بھی دین اور کتاب وسنت کا حوالہ آنے پر بالکل خاموش ہوکر سر تسلیم خم کردیتے ہین، پھر انہیں اپنے مادی، دنیاوی منافع اور نقصانات کی مطلق پرواہ نہیں ہوتی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرام اس خصوصیت میں انتہائی نمایاں مقام رکھتے تھے، ان کے اوصاف میں ’’وَقَّافِیْنَ عِنْدَ کِتَابِ اللّٰہِ‘‘ (قرآن کا حوالہ آتے ہی بالکل رک اور ٹھہر جانے والے) کا وصف بہت اجاگر ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا واقعہ ہے کہ عیینہ بن حصن مدینہ آئے اور اپنے برادر زادے الحرّ بن قیس کے گھر پر مقیم ہوئے، الحرّ بن قیس ان افراد میں تھے جنہیں حضرت عمرؓ اہمیت دیتے تھے، وہ ان کے مقرب مشیر تھے، عیینہ نے اپنے بھتیجہ سے کہا: تم کو امیر المؤمنین سے قربت حاصل ہے، میری اُن سے ملاقات کرادو، حضرت حر ّ نے امیر المؤمنین سے اپنے چچا کے لئے وقت چاہا، ملاقات ہوئی، عیینہ حضرت عمر کے پاس آئے تو بڑی بے ادبی سے بولے: اے خطاب کے بیٹے! خدا کی قسم! تم ہمیں نہ تو کچھ مال دیتے ہو اور نہ ہمارے بیچ انصاف کرتے ہو، حضرت عمرؓ کو یہ بات سن کر غصہ آگیا، حضرت حر نے فوراً عرض کیا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے قرآن میں اپنے نبی کو حکم دیا ہے:
خُذِ الْعَفْوَ وَأمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ۔ (الاعراف: ۱۹۹)
ترجمہ: درگذر کیجئے اور نیکی کا حکم دیجئے، اور جاہلوں سے اعراض کیجئے۔
اے امیر المؤمنین! یہ آدمی جاہلوں میں سے ہے، اس سے اعراض کیجئے اور نظر انداز