ترجمہ: دنیا کی طرف سے اعراض اور بے رخی اختیار کرلو، تو اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا، اور جو (مال وجاہ) لوگوں کے پاس ہے اس سے اعراض اور بے رخی اختیار کرلو، تو لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔
احادیثِ شریفہ میں یہ بھی آیا ہے کہ:
مَا زَہِدَ عَبْدٌ فِیْ الدُّنْیَا إِلاَّ أَنْبَتَ اللّٰہُ الْحِکْمَۃَ فِیْ قَلْبِہٖ، وَأَنْطَقَ بِہَا لِسَانَہٗ، وَبَصَّرَہٗ عَیْبَ الدُّنْیَا وَدَائَ ہَا، وَأَخْرَجَہٗ مِنْہَا سَالِماً إِلیٰ دَارِالسَّلاَمِ۔ (شعب الایمان / بیہقی)
ترجمہ: زہد اختیار کرنے والے کو منجانب اللہ حکمت القا کی جاتی ہے، اس کی زبان پر کلماتِ حکمت جاری کردیئے جاتے ہیں ، اس کی نگاہوں کے سامنے دنیا کے عیوب ومفاسد آجاتے ہیں ، اور دنیا سے اس کو سلامتی کے ساتھ نکال کر جنت میں پہنچادیا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا حدیث میں یہ بتایا گیا کہ لوگوں میں سب سے بڑا زاہد وہی ہے جو پانچ اوصاف کا حامل ہو۔
(۱) قبر اور بوسیدگی کو فراموش نہ کرے:
یعنی موت، عالمِ قبر وبرزخ، قبر کی وحشت وہولناکی اور تنہائی کو یاد رکھے اور یہ فراموش نہ کرے کہ اسے اس دنیا سے رخصت ہونا ہے، اورفنا ہونا ہے، دوام کسی کو میسر نہیں ہے، احادیث میں موت کو ’’ہَاذِمُ اللَّذَّاتِ‘‘ (لذتوں کو ختم کرنے والی) کہا گیا ہے اور اسے بکثرت یاد کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ (ترمذی شریف)
قبروں کی زیارت کا جو حکم ہے اس کے متعدد مقاصد میں ایک مقصد یہ بھی ہے کہ خوف پیدا ہو اور قبر وموت کی یادہ تازہ رہے جس کا نتیجہ اعمال صالحہ کی صورت میں ظاہر ہوگا، موت