مال واولاد کا فتنہ
انسان کو اللہ کی جانب سے مال، اولاد اور دوسری چیزوں کی شکل میں جو نعمتیں ملتی ہیں وہ سب آزمائش ہیں ۔ قرآن اس حقیقت کو واضح کرتا ہے:
فَإِذَا مَسَّ اْلإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاہُ نِعْمَۃً مِنَّا، قَالَ إِنَّمَا أُوْتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلْمٍ، بَلْ ہِیَ فِتْنَۃٌ وَّلٰکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَایَعْلَمُوْنَ۔ (الزمر: ۴۹)
ترجمہ: جب انسان کو کوئی تکلیف پہونچتی ہے تو وہ ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم کی بنیاد پر عطا کی گئی ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ وہ نعمت (انسان کے شکر یا کفرانِ نعمت کی) آزمائش (ہوتی ) ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔
مزید ارشاد ہے:
إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ۔ (التغابن: ۱۵)
ترجمہ: تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں ۔
جو بسا اوقات انسان کی آخرت کو اپنی دنیا بنانے کے لئے داؤں پر لگادیتے ہیں ، ان سے مجبور ہوکر بسا اوقات آدمی حرام کا مرتکب ہوجاتا ہے، اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہ ہوجاتا ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ ایک بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اسی درمیان حضرت حسن وحسین سرخ لباس پہنے ہوئے آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو