عصرِ حاضر کا شرک
ترقی یافتہ صنعتی انقلاب سے دو چار دنیا کا تجزیہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مادّیت کی یلغار نے انسان کو اتنا اپنے بس میں کرلیا ہے کہ وہ طبعی ومادّی وفنی اسباب کو خدا سمجھ بیٹھا ہے، عصر حاضر کا یہی وہ شرک ہے جس میں آج کی مادّی تہذیب مبتلا ہے۔
بقول حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ:
’’عہد حاضر کے انسان نے اپنی پوری زندگی ان کے رحم وکرم پر چھوڑ دی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ زندگی اور موت، کامیابی وناکامی، اقبال وادبار، خوش نصیبی وبدنصیبی سب ان کے ہاتھ میں ہے، اسباب مادّی، کائناتی قوتوں اور نیچر کی یہ پرستش وتقدیس اور اہل اختصاص اور ماہرین فن پر اعتمادِ کلی اور ان کو خدا کے درجہ پر رکھنا ایک نئی وثنیت اور نیا شرک ہے، اس نے قدیم بت پرستی کے ذخیرہ میں ایک نئی قسم کی بت پرستی کا اضافہ کیا ہے جو ایمان اور عبدیت کی حریف ہے‘‘۔ (معرکۂ ایمان ومادّیت/۸۳)
قرآن کریم میں اس شرک کی تردید کا مضمون جابجا آیا ہے، قرآن کی اصطلاح میں دنیوی زندگی جلد ختم ہونے والی کھیتی کے مانند ہے، دنیوی زندگی اور مادّیت کی چمک دمک جس کو منفعت پرست ولذت پسند افراد اپنامرکز ومعبود باور کرتے ہیں ، قرآن کی زبان میں اس کی مثال ایسی ہے جیسے اللہ نے پانی برسایا، جس کی وجہ سے زمین خوب پھلی پھولی لیکن پھر سب کچھ ریزہ ریزہ ہوگیا، ایسے ہی دنیوی زندگی بھی فنا ہونے والی ہے، سورۂ کہف میں باغ والے کا واقعہ ذکر ہوا ہے، اللہ نے اس پر اپنی نعمتیں انڈیل دی تھیں ، انگور کے دو باغ عطا کئے، باغوں کو خرموں سے گھیر دیا، درمیان میں کھیتی بھی تھی، باغوں میں بلا کسی نقصان اور کمی کے پورا