Deobandi Books

اصلاح معاشرہ اور تعمیر سیرت و اخلاق

59 - 161
ترجمہ:  جو شخص دنیا کو اپنا محبوب ومطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا، اور جو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرے گا، پس فنا ہوجانے والی دنیا کے مقابلہ میں باقی رہنے والی آخرت کو ترجیح دو۔
لہٰذا آخرت کو دنیا پر ترجیح دینا ہی زہد کا تقاضا ہے، بعض حکما ء کا مقولہ ہے کہ ’’اگر دنیا فنا ہونے والے سونے سے بنی ہو اور آخرت باقی رہنے والے ٹھیکرے سے بنی ہو تب بھی عقل مند باقی کو فانی پر ترجیح دے گا۔
(۴)  اپنی زندگی کے اگلے دن کو شمار نہ کرے:
یعنی موت کو ہمہ وقت نگاہوں کے سامنے رکھے، اور ہر آن یہ ذہن میں رکھے کہ اس کی موت قریب ہے، اور یہ تصور رہے کہ اگلا دن زندگی کا نہیں موت کا ہے، اور ہر عمل مابعد موت زندگی کے لئے انجام دے، یہی زہد وتقویٰ کی علامت ہے۔
(۵)  اپنا شمار مُردوں میں کرے:
دنیا کی زیب وزینت سے دست کش ہونا اورآخرت کی ہر دم تیاری میں لگے رہنا لازمی طور پر اللہ سے ملاقات کی محبت بڑھاتا ہے، اور اللہ سے ملاقات کی محبت کا لازمی نتیجہ دنیا سے جانے اورآخرت میں پہنچنے کی خواہش ہے، اور یہ زہد کا اعلیٰ مقام اور آخری منزل ہے کہ انسان بس اللہ ہی میں فنا ہوجائے اور اس سے لقاء ووصل کا آرزو مند ہوجائے۔
mvm


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
2 اصلاحِ معاشرہ اور تعمیرِ سیرت واخلاق 4 1
3 اشاعت کی عام اجازت ہے۔ 5 1
4 ملنے کے پتے: 5 1
5 مندرجات 6 1
6 مقدمہ (طبع سوم) 9 1
7 پیشِ گفتار 10 1
8 اپنی فکر میں لگے رہو 11 1
9 ٹی وی اور ڈش کے نقصانات 15 1
10 مَیں کے بجائے ’’ہَم‘‘ مطلوب ہے 18 1
11 اتحاد اہم ترین ضرورت ہے 23 1
12 مغربی نظام معاشرت کی ابتری 26 1
13 مغرب کا دلفریب نعرہ: آزادی اورجدت 31 1
14 افراط اور غلو کی لعنت 35 1
15 احساسِ برتری اور احساسِ کہتری 40 1
16 بندۂ مؤمن کے پانچ دشمن 45 1
17 (۱) جہادِ نفس: 45 16
18 (۲) شیطان سے جہاد: 46 16
19 (۳) کافروں سے جہاد: 47 16
20 (۴) منافقوں سے جہاد: 47 16
21 (۵) ظالموں اور فاسقوں سے جہاد: 48 16
22 سب سے بیش قیمت سرمایہ صالح افراد ہیں 49 1
23 عصرِ حاضر کا شرک 52 1
24 مادّہ پرستی کا طوفان 54 1
25 زاہد کے اوصاف 56 1
26 (۱) قبر اور بوسیدگی کو فراموش نہ کرے: 57 25
27 (۲) دنیوی زندگی کی عمدہ ترین آرائش کو چھوڑدے: 58 25
28 (۳) باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دے: 58 25
29 (۴) اپنی زندگی کے اگلے دن کو شمار نہ کرے: 59 25
30 (۵) اپنا شمار مُردوں میں کرے: 59 25
31 زبان کی حفاظت کی اہمیت 60 1
32 قول وعمل کی ہم آہنگی 63 1
33 قول وعمل 67 1
34 خوفِ خدا کی اہمیت 70 1
35 خدا ترسی 74 1
36 دین پر جماؤ 77 1
37 انسان کی ناشکری 80 1
38 کامل انسان اور مکمل انسانیت 84 1
39 تصنع واسراف اور سادگی 90 1
40 ایک بڑا فتنہ 93 1
41 فوری طور پر ہمارے کرنے کے کام 97 1
42 مال واولاد کا فتنہ 100 1
43 اپنی دنیا آپ پیدا کر 104 1
44 نعمتِ گویائی کا شکر مطلوب ہے 109 1
45 دولت ِ احساس واخلاص 113 1
46 انسانِ کامل 117 1
47 موت سامانِ عبرت ہے 121 1
48 نفس پرستی 125 1
49 معصوم بچوں کو ظلم سے بچائیے! 129 1
50 نفس کے گناہ اور ان سے بچاؤ! 132 1
51 (۱) سستی اور بزدلی: 133 50
52 (۲) کینہ اور بغض: 133 50
53 (۳) حرص وطمع: 133 50
54 اجتماعیت کی روح 136 1
55 اجتماعیت 139 1
56 نیکیوں کا زہر؛ حسد 142 1
57 نوجوانوں میں صحیح شعور پیدا کرنے کی ضرورت 146 1
58 اخلاقی قوت ہی اصل جوہر ہے 151 1
59 اعلیٰ انسانی کردار 155 1
60 مصنف کی مطبوعہ علمی کاوشیں 159 1
61 l اسلام میں عفت وعصمت کا مقام 159 60
62 l بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم 159 60
63 l اسلام میں صبر کا مقام 159 60
64 l ترجمان الحدیث 159 60
65 l اسلام کی سب سے جامع عبادت نماز 159 60
66 l اسلام اور زمانے کے چیلنج 160 60
67 l سیرتِ نبویہ قرآنِ مجید کے آئینے میں 160 60
68 l عظمتِ عمر کے تابندہ نقوش 160 60
69 l گناہوں کی معافی کے طریقے اور تدبیریں 160 60
70 l گلہائے رنگا رنگ 160 60
71 l مفکر اسلام؛ جامع کمالات شخصیت کے چند اہم گوشے 160 60
72 l علوم القرآن الکریم 161 60
73 l اسلام میں عبادت کا مقام 161 60
74 l اسلام دین فطرت 161 60
75 l دیگر کتب: 161 60
76 l عربی کتب: 161 60
Flag Counter