ترجمہ: جو شخص دنیا کو اپنا محبوب ومطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا، اور جو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرے گا، پس فنا ہوجانے والی دنیا کے مقابلہ میں باقی رہنے والی آخرت کو ترجیح دو۔
لہٰذا آخرت کو دنیا پر ترجیح دینا ہی زہد کا تقاضا ہے، بعض حکما ء کا مقولہ ہے کہ ’’اگر دنیا فنا ہونے والے سونے سے بنی ہو اور آخرت باقی رہنے والے ٹھیکرے سے بنی ہو تب بھی عقل مند باقی کو فانی پر ترجیح دے گا۔
(۴) اپنی زندگی کے اگلے دن کو شمار نہ کرے:
یعنی موت کو ہمہ وقت نگاہوں کے سامنے رکھے، اور ہر آن یہ ذہن میں رکھے کہ اس کی موت قریب ہے، اور یہ تصور رہے کہ اگلا دن زندگی کا نہیں موت کا ہے، اور ہر عمل مابعد موت زندگی کے لئے انجام دے، یہی زہد وتقویٰ کی علامت ہے۔
(۵) اپنا شمار مُردوں میں کرے:
دنیا کی زیب وزینت سے دست کش ہونا اورآخرت کی ہر دم تیاری میں لگے رہنا لازمی طور پر اللہ سے ملاقات کی محبت بڑھاتا ہے، اور اللہ سے ملاقات کی محبت کا لازمی نتیجہ دنیا سے جانے اورآخرت میں پہنچنے کی خواہش ہے، اور یہ زہد کا اعلیٰ مقام اور آخری منزل ہے کہ انسان بس اللہ ہی میں فنا ہوجائے اور اس سے لقاء ووصل کا آرزو مند ہوجائے۔
mvm