جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جَا ہے تماشا نہیں ہے
اس لئے نہ کسی دولت مند کے لئے اپنی دولت پر ناز کا جواز ہے اور نہ کسی بااقتدار کے لئے اپنے اقتدار پر اتراہٹ کا، موت ہر ایک کے لئے عبرت ہے، اور اسی کو حدیث میں ’’ھَاذِمُ اللَّذَّاتِ‘‘ (تمام لذتیں ختم کرنے والی چیز) قراردیا گیا ہے اور کثرت سے یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن میں دنیوی زندگی اور اس کی رونقوں کو ’’مَتَاعُ الْغُرُوْرِ‘‘ (دھوکے کا سامان) قرار دیا گیا اور اصل توجہ موت کے بعد کی زندگی پر مرکوز کرنے کی تاکید آئی ہے۔
حضرت حسن بصریؒ کا یہ جملہ آبِ زر سے اور لوحِ قلب پر لکھنے کے قابل ہے کہ:
مَا أَکْثَرَ الْمُعْتَبَرَ وَأَقَلَّ الْمُعْتَبِرَ۔
ترجمہ: سامانِ عبرت بہت ہے مگر عبرت حاصل کرنے والے بہت کم۔
اور یہی صورتحال سب سے خطرناک ہے۔
mvm