بیٹھتے تھے مگر کبھی دوسری حالت پر بیٹھنا بھی ثابت ہے جیسا کہ ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب تک مسجد شریف میں چار زانو تشریف رکھتے تھے۔
بسا اوقات بجائے ہاتھوں کےکمراور پنڈلیوں پر کپڑا لپیٹ لیا جاتا ہے جو کہ مزید راحت کا باعث ہے۔
2: دوسری حدیث مبارک جس میں چت لیٹنے کاذکر ہے اسکی صورت یہ ہے دونوں پاؤں پھیلا کر ایک قدم کو دوسرے قدم پر رکھ لے ورنہ چت لیٹنے کی دوسری صورت یعنی ایک قدم کو دوسرے پاؤں کاگھٹناکھڑاکرکےا سپر رکھے۔ اس کی ممانعت آئی ہے۔ اس کی وجہ بھی ہے کہ عرب میں عام طور پر رواج لنگی باندھنے کا تھا اور اس دوسری صورت میں ستر کھلنے کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔ البتہ اگر شلوار یا پاجامہ پہنا ہوتوجیسے بھی لیٹے کوئی حرج نہیں ہے۔