مبارک منڈانے کے قریب زمانہ میں بالوں کی مقدار کو نقل کیا تو اس نے چھوٹے بال نقل کیے اور جس نے بال مبارک کٹوائےہوئے کو عرصہ ہو جانے کے وقت نقل کیا تو اس نے زیادہ بال نقل کیے۔ بعض علماء نے روایات کواس طرح بھی جمع فرمایا ہےکہ سر مبارک کے اگلے حصہ کے بال مبارک نصف کانوں تک پہنچ جاتے اور وسط سر مبارک کے اس سے نیچے تک اور اخیر سر مبارک کے بال مبارک کندھوں کے قریب تک پہنچ جاتے تھے۔ بعض علماء نے اس طرح بھی جمع فرمایا ہے کہ بال مبارک عام طور پر کانوں تک طویل ہوتے تھے، پھر جب حجامت بنوانے میں سفر وغیرہ کی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تو بڑھ کر گردن تک پہنچ جاتے اور اگر مزید تاخیر ہو جاتی تو بڑھ کر کندھوں تک پہنچ جاتے تھے ۔
فائدہ:
اگر بال کانوں کی لو تک پہنچ جائیں تو انکو”وَفْرَۃ“،اگر گردن تک پہنچ جائیں تو انکو ”لِمَّۃ“اور اگر مزید بڑھ کر کندھوں تک پہنچ جائیں تو انکو”جُمَّۃ“کہتے ہیں اور ان کے مجموعہ کو ”ولج“سے تعبیر کرتے ہیں۔