ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ کے رونےکی وجہ کیا ہے؟ تو فرمانے لگیںکہ مجھے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حالت یاد آجاتی ہےجس پر آپ دنیا سے جدا ہوئے تھے۔ خدا کی قسم! آپ نے کبھی دن میں دو دفعہ روٹی اور نہ ہی گوشت پیٹ بھر کے کھایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : مَا أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلاَ أَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتَّى مَاتَ.
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی آپ نے چپاتی یعنی چھنے ہوئےآٹے کی روٹی کھائی یہاں تک کہ آپ اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔
زبدۃ:
1: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہمیں گندم اور پھر میدے کی روٹی تو مالداروں کو نصیب ہوتی تھی کیونکہ گندم اس سرزمین پر کاشت نہیں ہوتی تھی بلکہ شام جیسے دور درازعلاقوں سے منگوانی پڑتی تھی اس لیے کافی مہنگی ہوتی تھی، اس لیے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بالعموم جَو کی سادہ روٹی میسر آتی تھی اور آپ اسی کو کھا کر شکر ادا فرماتے تھے، میدے کی روٹی تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا ثابت ہی نہیں ہے۔
2: جَو کی سادہ روٹی بھی بغیر چھنے ہوئے ہوتی تھی اور وہ بھی روزانہ نہیں ہوتی تھی۔ یہ صرف حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہی نہ تھا بلکہ آپ کے اہلِ خانہ کابھی یہی معمول تھا کہ کئی کئی روز تک جَو کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی تھی۔
3: اسی طرح حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سالن چھوٹی رکابی میں نہیں ڈالا کیونکہ ایک ہی بڑا برتن ہوتا تھا جس میں سالن ڈال لیا جاتا تھا۔ آپ نے میز پر بھی کبھی کھانا نہیں کھایا کیونکہ میز پر کھانا کھانا متکبرین کا طریقہ ہے اور اب تو اس سے