ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2015 |
اكستان |
|
اللہ کی عبادت کریں گے اُسی کی یاد میں باقی زندگی گزاریں گے چنانچہ ہر ایک نے اپنے لیے علیحدہ علیحدہ عبادت تجویز کی۔ ایک نے کہا میں اپنے آپ کو یکسو رکھوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا تاکہ یکسوئی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہوں۔ دُوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا۔ تیسرے نے کہا میں پوری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کروں گا۔ غرض سب نے اپنے اپنے لیے ایک نہایت پر مشقت عبادت تجویز کرلی، اِس اِرادے اور اِس طرح فیصلہ کرنے سے پہلے اُنہوں نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ حضور اَکرام ۖ کتنی اور کس طرح عبادت فرماتے ہیں،جب آپ کے معمولات کا علم ہوا توکہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بنایا ہے ہر چیز آپ کے لیے معاف ہے آپ کو اِتنی عبادت کی بھی ضرورت نہیں جتنی کر رہے ہیں، ہم گناہگار ہیں ہمیں تو زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے اِس لیے اُنہوں نے سب کاموں کو چھوڑنے اور عبادت کرنے کا تہیہ کرلیا۔ آنحضرت ۖ کو جب اُن کا یہ فیصلہ معلوم ہوا تو اُنہیں طلب فرماکر اِرشاد فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے ایسا ایسا طے کیا ہے اور یہ سب غلط ہے، میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا اور خدا کا تقوی رکھنے والا ہوں لیکن میں روزہ رکھتا بھی ہوں نہیں بھی رکھتا ہوں، رات کو جاگتا بھی ہوں سوتا بھی ہوں ،نکاح بھی کرتا ہوں ،جو میراطریقہ ہے صرف وہی نجات کا طریقہ ہے جو اِس کے علاوہ راستہ اِختیار کرتا ہے وہ غلط راستہ پر ہے فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ ١ غرض اُنہیں اُن کے اِرادوں پر عمل کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ گھل مل کر رہنا اور صبر کرنا : آقائے نامدار ۖ نے کسی شخص کو دیکھا کہ جہاں اچھی جگہ دیکھتا ہے چاہتا ہے کہ میں ١ مشکوة کتاب الایمان رقم الحدیث ١٤٥