ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2015 |
اكستان |
|
''اللہ تعالیٰ اُس شخص کا چہرہ روشن فرمائیں جو میری کسی بات کو سن کر اُسے اپنے کسی بھائی کو سنانے کا اِرادہ کرے۔'' اور بعض دیگر روایات میں یہ الفاظ ہے : اَلاَ ! فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ خبردار ! حاضر شخص غائب تک یہ باتیں پہنچادیں۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کی بارہ تاریخ کو منیٰ میں آپ پر سورۂ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ نازل ہوئی جس سے آپ ۖ نے اَندازہ لگالیا کہ اب آپ کے دُنیا سے پردہ فرمانے کا وقت قریب ہے اِس لیے آپ نے اہتمام کے ساتھ اُمت کو خطاب کیا اور آخر میں فرمایا کہ : حاضرین غیرموجودین کو یہ باتیں پہنچادیں کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں۔'' (اَلبدایہ والنہایہ، حیاة الصحابہ ٣/٤٠٧) مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حجة الوداع کے خطبہ کے آخر میں آپ نے حاضرین صحابہ سے پوچھا کہ : ''قیامت میں تم سے جب میرے بارے میں سوال ہوگا تو تم کیا کہوگے ؟ '' تو سب نے عرض کیا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے (اللہ کا پیغام بِلا کم وکاست) ہم تک پہنچایا اور (آپ نے اُمت کے ساتھ) خیر خواہی کا معاملہ فرمایا اور آپ نے (اَمانت خداوندی بحسن وخوبی) اَدا فرمائی، یہ سن کر جنابِ رسول اللہ ۖ نے اپنی شہادت کی اُنگلی آسمان کی طرف اُٹھائی اور لوگوں کی طرف اِشارہ کیا اور تین مرتبہ یہ جملہ اِرشاد فرمایا : اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ ، اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ ، اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ (اے اللہ گواہ رہ، اے اللہ گواہ رہ، اے اللہ گواہ رہ) ۔ (مسلم شریف١/٣٩٧، حیاة الصحابہ ٣/٤٠٤) خد ا را ! مجھے قیامت میں رُسوا مت کرنا : سنن اِبن ماجہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہماکی روایت ہے کہ نبی اکرم ۖ نے حجة الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں جو خطاب فرمایا اُس کے آخر میں یہ رونگٹے کھڑے کردینے والے الفاظ بھی تھے :