Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2015

اكستان

44 - 65
''اللہ تعالیٰ اُس شخص کا چہرہ روشن فرمائیں جو میری کسی بات کو سن کر اُسے اپنے کسی بھائی کو سنانے کا اِرادہ کرے۔''
اور بعض دیگر روایات میں یہ الفاظ ہے  :  اَلاَ !  فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ  خبردار  !  حاضر شخص غائب تک یہ باتیں پہنچادیں۔
ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کی بارہ تاریخ کو منیٰ میں آپ پر سورۂ  اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ  نازل ہوئی جس سے آپ  ۖ نے اَندازہ لگالیا کہ اب آپ کے دُنیا سے پردہ فرمانے کا وقت قریب ہے اِس لیے آپ نے اہتمام کے ساتھ اُمت کو خطاب کیا اور آخر میں فرمایا کہ  :  حاضرین غیرموجودین کو یہ باتیں پہنچادیں کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں۔'' (اَلبدایہ والنہایہ، حیاة الصحابہ ٣/٤٠٧)
مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حجة الوداع کے خطبہ کے آخر میں آپ نے حاضرین صحابہ سے پوچھا کہ  :  ''قیامت میں تم سے جب میرے بارے میں سوال ہوگا تو تم کیا کہوگے  ؟  ''  تو سب نے عرض کیا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے (اللہ کا پیغام بِلا کم وکاست) ہم تک پہنچایا اور (آپ نے اُمت کے ساتھ) خیر خواہی کا معاملہ فرمایا اور آپ نے (اَمانت خداوندی بحسن وخوبی) اَدا فرمائی، یہ سن کر جنابِ رسول اللہ  ۖ  نے اپنی شہادت کی اُنگلی آسمان کی طرف اُٹھائی اور لوگوں  کی طرف اِشارہ کیا اور تین مرتبہ یہ جملہ اِرشاد فرمایا  :   اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ ،  اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ ،  اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ   (اے اللہ گواہ رہ، اے اللہ گواہ رہ، اے اللہ گواہ رہ) ۔ (مسلم شریف١/٣٩٧، حیاة الصحابہ ٣/٤٠٤)
 خد ا را  !  مجھے قیامت میں رُسوا مت کرنا  :
سنن اِبن ماجہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہماکی روایت ہے کہ نبی اکرم  ۖ   نے حجة الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں جو خطاب فرمایا اُس کے آخر میں یہ رونگٹے کھڑے کردینے والے الفاظ بھی تھے  :

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 اس شمارے میں 3 1
3 حرفِ آغاز 4 1
4 درسِ حدیث 6 1
5 گھل مل کر رہنا اور صبر کرنا : 7 4
6 مطلب کی وضاحت : 8 4
7 عیسائیوں کا فرسودہ طریقہ : 9 4
8 اِنسان کے مزاج پر اِس کا اَثر : 9 4
9 اللہ سے بے توجہی کا نقصان : 9 4
10 عید الاضحی ....... اَعمال،اَحکام ،فضائل 10 1
11 عیدالاضحی کی نماز : 10 10
12 قربانی کی فضیلت اور ثواب : 11 10
13 قربانی کس پر واجب ہے ؟ 12 10
14 قربانی کا وقت : 12 10
15 ذبح کا طریقہ : 13 10
16 قربانی کے جانور کو قبلہ رُخ لِٹاؤ اور یہ دُعا پڑھو : 13 10
17 نیت : 13 10
18 قربانی کے جانور اور اُن کے حصے : 14 10
19 تقسیم : 14 10
20 عمریں : 14 10
21 عیب دار جانور جن کی قربانی درست نہیں ہے : 15 10
22 قربانی کی کھال : 16 10
23 قربانی کا گوشت : 16 10
24 متفرق مسائل : 16 10
25 اِسلام کیا ہے ؟ 18 1
26 سولہواں سبق : جنت اور دوزخ 18 25
27 قصص القرآن للاطفال 26 1
28 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصے 26 27
29 ( حضرت اَیوب علیہ السلام کا واقعہ ) 26 27
30 خطباتِ حجة الوداع 31 1
31 وہ قیمتی اَسباق جنہیں مسلسل یاد رکھنے کی ضرورت ہے 31 30
32 حرمین شریفین میں تصویرکَشی کی وبا : 33 30
33 حج کا سفر ایک تربیتی سفر ہے : 34 30
34 خطباتِ حجة الوداع : 34 30
35 (١) حقوق العباد کا خیال رکھنے کی تاکید : 35 30
36 (٢) کتاب وسنت پر ثابت قدم رہنے کی وصیت : 36 30
37 (٣) آخرت کی فکر کی تلقین : 36 30
38 (٤) شیطان کے مکر وفریب سے بچنے کی تاکید : 37 30
39 (٥) جاہلیت کی ہر رسم پیروں تلے دفن : 38 30
40 (٦) قتل وغارت گری سے بچنے کی تلقین : 39 30
41 (٧) خواتین کی حرمت کا خیال : 40 30
42 (٨) حکام کی سمع واِطاعت کی تلقین : 40 30
43 (٩) حقیقی مساوات کا اعلان : 41 30
44 (١٠) متفرق ہدایات : 42 30
45 (١١) تبلیغ دین کی تلقین : 43 30
46 خد ا را ! مجھے قیامت میں رُسوا مت کرنا : 44 30
47 ہمارا فرض : 45 30
48 وفیات 46 1
49 بکری کی قربانی میں شرکت کا مسئلہ 47 1
50 بکری کی قربانی صرف ایک آدمی کے طرف سے ہو سکتی ہے یا اِس میں متعدد حصے دار شریک ہو سکتے ہیں ؟ 47 49
51 منشأ اِختلاف : 47 49
52 مفہومِ حدیث کے متعلق دونوں آراء کا تجزیہ : 50 49
53 دلیل نمبر ١ : 50 49
54 دلیل نمبر ٢ : 51 49
55 دلیل نمبر ٣ : 53 49
56 دلیل نمبر ٤ : 53 49
57 دلیل نمبر٥ : 54 49
58 دلیل نمبر ٦ : 55 49
59 دلیل نمبر ٧ : 56 49
60 دلیل نمبر ٨ : 57 49
61 دلیل نمبر ٩ : 59 49
62 دلیل نمبر ١٠ : 60 49
63 دلیل ١١ : 60 49
64 غیر مقلدین کا قیاس : 60 49
65 غیر مقلدین کا قیاس ملاحظہ کیجیے ! 61 49
66 اِس اِجمال کی تفصیل ملاحظہ کیجیے : 61 49
67 غیر مقلدین کا شکوہ : 62 49
68 جواب ِشکوہ : 62 49
69 ہمارے تین سوال : 63 49
70 بقیہ : عید الاضحی ... اَعمال،اَحکام ،فضائل 64 10
71 جامعہ مدنیہ جدید و مسجد حامد 65 1
Flag Counter