صلوات فیسقط الترتیب فیھا۔
ثم اقام فصلی الظھر ثم اقام فصلی العصر ثم اقام فصلی المغرب ثم اقام فصلی العشاء (الف) ( ترمذی شریف ، باب ماجاء فی الرجل تفوتہ الصلوات بایتھن یبدأ ص ٤٣ ، نمبر١٧٩ نسائی شریف ، باب کیف یقضی الفوائت من الصلوة ،ص ٨٥، نمبر ٦٢٣)اس حدیث میں ترتیب کے ساتھ نماز پڑھی گئی ہے۔پہلے ظہر پھر عصر پھر مغرب پھر عشا پڑھی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ ترتیب ضروری ہے۔ لیکن اگر چھ نمازیں قضا ہو جائیں تو چو نکہ اب ان کو قضا کرتے کرتے وقتیہ بھی فوت ہو جا ئے گی۔اس لئے اب ترتیب ساقط ہو جائے گی۔ تا ہم وقت ملے تو ترتیب برقرا رکھے۔
حاشیہ : (الف)عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ مشرکین نے حضور کو جنگ خندق کے دن چار نمازوں سے مشغول کر دیا۔یہاں تک کہ جتنا اللہ چاہے رات چلی گئی۔ پس حضرت بلال کو حکم دیا ،پس اذان دی،پھر اقامت کہی۔پس ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر اقامت کہی پس عصر کی نماز پڑھی۔پھر اقامت کہی پس مغرب کی نماز پڑھی۔پھر اقامت کہی گئی پس عشا کی نماز پڑھی۔