انصاف اور ناشکرا ہے۔
فطرت کی ہر مانگ، زندگی کا ہر مطلوب اور بقاء وارتقاء کے تمام وسائل فراہم ومہیا کئے جانے کے باوجود یہ انسان ناشکری اور احسان فراموشی کی آخری حدوں تک پہونچ چکا ہے، انسان کا اپنا وجود ایک عالم اصغر ہے، اس کے تمام اعضاء، جسم کے ہر جوڑ اور ہر رگ وریشہ میں اللہ وحدہ‘ لاشریک لہ کی لامتناہی نعمتوں کا ایک خزانہ مخفی وپنہاں ہے، لیکن انسانی طبیعت کی یہ عالمگیر کمزوری ہے کہ جب تک وہ ایک نعمت سے محروم نہیں ہوجاتا تب تک اس کی قدر وقیمت کا صحیح اندازہ نہیں کرسکتا اور ناشکری کرتا جاتا ہے، قرآن نے انسان کو اسی کفرانِ نعمت کی طرف بارہا متوجہ کیا ہے۔
نعمتوں کی ناقدری، کفرانِ نعمت، احسان ناشناسی، معصیت اور بے راہ روی کے نتائج انسان کو مصائب، مشکلات، حادثات اور اذیتوں کی شکلوں میں بھگتنے پڑتے ہیں ، قرآن کہتا ہے:
وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً قَرْیَۃً کَانَتْ آمِنَۃً مُطْمَئِنَّۃً، یَّأْتِیْہَا رِزْقُہَا رَغَداً مِنْ کُلِّ مَکَانٍ، فَکَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللّٰہِ، فَأَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ۔ (النحل: ۱۱۲)
ترجمہ: اور دیکھو کہ اللہ نے ایک مثال بیان کی، ایک بستی تھی جہاں ہر طرح کا امن تھا، ہر جگہ سے سامانِ رزق آتا رہتا تھا اور ہر شخص فراغت سے کھاتا رہتا تھا، لیکن پھر ایسا ہوا کہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے بھی ان کے کاموں کی پاداش میں انہیں نعمتوں سے محروم کردیا، تنعم کی جگہ فاقہ اور امن کی جگہ خوف ان پر چھاگیا۔
دنیوی نتائجِ بد کے سوا اخروی نتائج کہیں زیادہ بدتر ہوں گے، قرآن کے بقول:
لَہُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ، وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ، ذٰلِکَ