مقصدِ تخلیق یعنی عبادت وبندگی سے کسی لمحہ غافل نہ ہو، لیکن دوسری طرف اکثر انسانوں کی صورت حال بالکل الٹی ہے، قرآن کی زبان میں :
أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ کُفْراً، وَّأَحَلُّوْا قَوْمَہُمْ دَارَ الْبَوَارِ۔ (ابراہیم: ۲۸)
ترجمہ: کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفرانِ نعمت سے بدل ڈالا اور اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھرمیں جھونک دیا۔
ایک طرف اللہ نے ہر طرح کی نعمت دی اور:
اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً، فَأَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ، وَسَخَّرَ لَکُمُ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِیْ الْبَحْرِ بِأَمْرِہٖ، وَسَخَّرَ لَکُمُ الْأَنْہَارَ، وَسَخَّرَ لَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ، وَسَخَّرَ لَکُمُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ، وَآتَاکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَأَلْتُمُوْہُ، وَإِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْہَا، إِنَّ الإِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ۔ (ابراہیم: ۳۲-۳۴)
ترجمہ: آسمان وزمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لئے طرح طرح کے پھل دیئے، اس نے کشتی کو تمہارے لئے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریاؤں کو تمہارے لئے مسخر کیا، سورج اورچاند کو تمہارے لئے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جارہے ہیں اور رات ودن کو تمہارے لئے مسخر کیا اور تمہیں وہ سب کچھ دیا جو تم نے مانگا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے، حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے