کھڑے ہونے کے سوا کوئی اور چارہ نہ ہو تو آگے سے نرمی سے کسی نمازی کو پیچھے اپنے ساتھ کرکے اس کے ساتھ نماز پڑھے، اور جسے پیچھے کیا جائے وہ ضرورت سمجھ کر خوش اسلوبی سے پیچھے آجائے، اس عمل کو باعثِ اجر بتایا گیا ہے، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام ظاہری وباطنی ہر اعتبار سے وحدت واجتماعیت کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔
مسلمان نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھتا ہے اور اپنے مالک سے یہ دعا کرتا ہے کہ:
اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔
ترجمہ: ہم کو سیدھا راستہ دکھادیجئے۔
یہاں بھی اجتماعی دعا ہے، وہ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ سب کے لئے اللہ سے ہدایت کی دعا مانگتا ہے، رمضان میں مسلمان تنہا نہیں سب کے ساتھ مل کر روزہ رکھتا ہے، عید کے دن تنہا نہیں سب کے ساتھ مل کر روزہ توڑتا ہے، اگر اس نے تنہا رمضان کا چاند دیکھا ہے اور کسی نے نہیں دیکھا، اوراگلے دن سب بے روزہ ہیں تو اسے بھی بے روزہ رہنا ہے، اگر اس نے تنہا عید کا چاند دیکھا ہے اور کسی نے نہیں دیکھا، اور اگلے دن سب روزے سے ہیں تو اسے بھی روزے سے رہنا ہے، کسی بھی طرح جماعت سے الگ نہیں ہونا ہے، اسی کو ایک حدیث میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ:
’’ روزہ اسی دن ہوگا جب سب لوگ روزہ رکھیں ، اور عید اسی دن ہوگی جب سب لوگ عید منائیں ‘‘۔ (ابوداؤد شریف)
ان مسائل فقہیہ میں ائمہ کے جزوی اختلافات تو ہیں مگر اس حقیقت کا ادراک بہر صورت کیا جاسکتا ہے کہ اسلام اپنی ہر تعلیم اور ہر حکم کے ذریعہ اپنے متبعین میں اجتماعیت کی روح پیدا کرنا اور انفرادیت کی فکر ختم کرنا چاہتا ہے، واقعہ بھی یہی ہے کہ ہر مرحلۂ زندگی میں ملت کا مفاد اجتماعیت ہی سے وابستہ ہے۔
mvm