Deobandi Books

اصلاح معاشرہ اور تعمیر سیرت و اخلاق

137 - 161
فرمایا گیا کہ اجتماعیت رحمت ہے اور انتشار عذاب ہے ، اجتماعیت میں برکت ہے اور انتشار میں بے برکتی ہے، جماعت کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے، انتشار میں شیطان کی مسرت اور معیت ہوتی ہے، جنت کا حصول اجتماعیت پر موقوف ہے، اسی لئے اسلام میں اجتماعیت کی بے حد اہمیت آئی ہے اور ہر فردِ بشر میں اجتماعی روح پیدا کرنے کی مکمل کوشش کی گئی ہے، اور اجتماعی تقاضوں کو انفرادی تقاضوں سے مقدم رکھنے کی بیحد تاکید کی گئی ہے، ایک حدیث میں ہے کہ:
اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ، یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضاً۔ (متفق علیہ)
ترجمہ:  ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے، جس طرح عمارت کا ایک حصہ دوسرے حصے کی مضبوطی کا ذریعہ ہوتا ہے اسی طرح ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی قوت اورسہارا ثابت ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیمات واحکام کا تجزیہ بھی یہی بتاتا ہے کہ اجتماعی روح پھونکنے کا اہتمام کیا گیا ہے، اور انفرادی تقاضوں کو پس پشت ڈالنے کی تاکید کی گئی ہے، نماز کے باب میں جماعت کی تاکید، اہمیت، ترکِ جماعت پر سخت وعیدیں ، اذان کا اہتمام، مساجد کی اہمیت وتقدس، عیدین کا نظام سب کچھ اس کا واضح ثبوت ہے، ایک نابینا صحابی کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا نماز پڑھنے اور جماعت میں شریک نہ ہونے کی اجازت نہ دی، اور یہ ارادہ فرمایا کہ جماعت میں بلا عذر نہ آنے والوں کو گھروں کے ساتھ جلادیں ، نماز باجماعت کی صفیں لگی ہوں اور کوئی پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اگرچہ جماعت میں شریک ہو اس کو بھی ناپسند فرمایا کہ یہ اجتماعی نظام کے خلاف ہے، حضرت وابصہ بن معبدؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس کو نماز دہرانے کا حکم دیدیا۔ 					(ترمذی شریف)
شرعی مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی مسجد میں آئے اور صفیں پُر پائے، اور پیچھے تنہا


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
2 اصلاحِ معاشرہ اور تعمیرِ سیرت واخلاق 4 1
3 اشاعت کی عام اجازت ہے۔ 5 1
4 ملنے کے پتے: 5 1
5 مندرجات 6 1
6 مقدمہ (طبع سوم) 9 1
7 پیشِ گفتار 10 1
8 اپنی فکر میں لگے رہو 11 1
9 ٹی وی اور ڈش کے نقصانات 15 1
10 مَیں کے بجائے ’’ہَم‘‘ مطلوب ہے 18 1
11 اتحاد اہم ترین ضرورت ہے 23 1
12 مغربی نظام معاشرت کی ابتری 26 1
13 مغرب کا دلفریب نعرہ: آزادی اورجدت 31 1
14 افراط اور غلو کی لعنت 35 1
15 احساسِ برتری اور احساسِ کہتری 40 1
16 بندۂ مؤمن کے پانچ دشمن 45 1
17 (۱) جہادِ نفس: 45 16
18 (۲) شیطان سے جہاد: 46 16
19 (۳) کافروں سے جہاد: 47 16
20 (۴) منافقوں سے جہاد: 47 16
21 (۵) ظالموں اور فاسقوں سے جہاد: 48 16
22 سب سے بیش قیمت سرمایہ صالح افراد ہیں 49 1
23 عصرِ حاضر کا شرک 52 1
24 مادّہ پرستی کا طوفان 54 1
25 زاہد کے اوصاف 56 1
26 (۱) قبر اور بوسیدگی کو فراموش نہ کرے: 57 25
27 (۲) دنیوی زندگی کی عمدہ ترین آرائش کو چھوڑدے: 58 25
28 (۳) باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دے: 58 25
29 (۴) اپنی زندگی کے اگلے دن کو شمار نہ کرے: 59 25
30 (۵) اپنا شمار مُردوں میں کرے: 59 25
31 زبان کی حفاظت کی اہمیت 60 1
32 قول وعمل کی ہم آہنگی 63 1
33 قول وعمل 67 1
34 خوفِ خدا کی اہمیت 70 1
35 خدا ترسی 74 1
36 دین پر جماؤ 77 1
37 انسان کی ناشکری 80 1
38 کامل انسان اور مکمل انسانیت 84 1
39 تصنع واسراف اور سادگی 90 1
40 ایک بڑا فتنہ 93 1
41 فوری طور پر ہمارے کرنے کے کام 97 1
42 مال واولاد کا فتنہ 100 1
43 اپنی دنیا آپ پیدا کر 104 1
44 نعمتِ گویائی کا شکر مطلوب ہے 109 1
45 دولت ِ احساس واخلاص 113 1
46 انسانِ کامل 117 1
47 موت سامانِ عبرت ہے 121 1
48 نفس پرستی 125 1
49 معصوم بچوں کو ظلم سے بچائیے! 129 1
50 نفس کے گناہ اور ان سے بچاؤ! 132 1
51 (۱) سستی اور بزدلی: 133 50
52 (۲) کینہ اور بغض: 133 50
53 (۳) حرص وطمع: 133 50
54 اجتماعیت کی روح 136 1
55 اجتماعیت 139 1
56 نیکیوں کا زہر؛ حسد 142 1
57 نوجوانوں میں صحیح شعور پیدا کرنے کی ضرورت 146 1
58 اخلاقی قوت ہی اصل جوہر ہے 151 1
59 اعلیٰ انسانی کردار 155 1
60 مصنف کی مطبوعہ علمی کاوشیں 159 1
61 l اسلام میں عفت وعصمت کا مقام 159 60
62 l بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم 159 60
63 l اسلام میں صبر کا مقام 159 60
64 l ترجمان الحدیث 159 60
65 l اسلام کی سب سے جامع عبادت نماز 159 60
66 l اسلام اور زمانے کے چیلنج 160 60
67 l سیرتِ نبویہ قرآنِ مجید کے آئینے میں 160 60
68 l عظمتِ عمر کے تابندہ نقوش 160 60
69 l گناہوں کی معافی کے طریقے اور تدبیریں 160 60
70 l گلہائے رنگا رنگ 160 60
71 l مفکر اسلام؛ جامع کمالات شخصیت کے چند اہم گوشے 160 60
72 l علوم القرآن الکریم 161 60
73 l اسلام میں عبادت کا مقام 161 60
74 l اسلام دین فطرت 161 60
75 l دیگر کتب: 161 60
76 l عربی کتب: 161 60
Flag Counter