فرمایا گیا کہ اجتماعیت رحمت ہے اور انتشار عذاب ہے ، اجتماعیت میں برکت ہے اور انتشار میں بے برکتی ہے، جماعت کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے، انتشار میں شیطان کی مسرت اور معیت ہوتی ہے، جنت کا حصول اجتماعیت پر موقوف ہے، اسی لئے اسلام میں اجتماعیت کی بے حد اہمیت آئی ہے اور ہر فردِ بشر میں اجتماعی روح پیدا کرنے کی مکمل کوشش کی گئی ہے، اور اجتماعی تقاضوں کو انفرادی تقاضوں سے مقدم رکھنے کی بیحد تاکید کی گئی ہے، ایک حدیث میں ہے کہ:
اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ، یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضاً۔ (متفق علیہ)
ترجمہ: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے، جس طرح عمارت کا ایک حصہ دوسرے حصے کی مضبوطی کا ذریعہ ہوتا ہے اسی طرح ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی قوت اورسہارا ثابت ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیمات واحکام کا تجزیہ بھی یہی بتاتا ہے کہ اجتماعی روح پھونکنے کا اہتمام کیا گیا ہے، اور انفرادی تقاضوں کو پس پشت ڈالنے کی تاکید کی گئی ہے، نماز کے باب میں جماعت کی تاکید، اہمیت، ترکِ جماعت پر سخت وعیدیں ، اذان کا اہتمام، مساجد کی اہمیت وتقدس، عیدین کا نظام سب کچھ اس کا واضح ثبوت ہے، ایک نابینا صحابی کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا نماز پڑھنے اور جماعت میں شریک نہ ہونے کی اجازت نہ دی، اور یہ ارادہ فرمایا کہ جماعت میں بلا عذر نہ آنے والوں کو گھروں کے ساتھ جلادیں ، نماز باجماعت کی صفیں لگی ہوں اور کوئی پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اگرچہ جماعت میں شریک ہو اس کو بھی ناپسند فرمایا کہ یہ اجتماعی نظام کے خلاف ہے، حضرت وابصہ بن معبدؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس کو نماز دہرانے کا حکم دیدیا۔ (ترمذی شریف)
شرعی مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی مسجد میں آئے اور صفیں پُر پائے، اور پیچھے تنہا