مؤمن اس روگ اورمرض سے دور رہتا ہے، حرص کو اہل کفر ونفاق کی علامت بتایا گیا ہے۔
نفس کو برائیوں سے بچانے اوربھلائیوں کی طرف راغب بنانے کے مختلف طریقے ہیں ، ان میں سے پہلا طریقہ صبر کا ہے، صبر نفس کو سنوارنے اوراس کو اخلاقِ عالیہ سے آراستہ کرنے کا اہم ذریعہ ہے، دوسرا طریقہ مراقبہ کا ہے یعنی خفیہ وعلانیہ بہر حال اللہ کی طرف دھیان رہے، اس سے نفس پر قابو ملے گا، اور وہ گناہ کے لئے آزاد نہ رہے گا۔
ایک آدمی حضرت ابراہیم بن ادہم کے پاس آیا اور کہا کہ میں بہت گنہ گار ہوں ، کوئی ایسا طریقہ بتادیجئے کہ میرا نفس گناہ کی طرف مائل نہ ہو، ابراہیم بن ادہم نے فرمایا کہ اگر تم پانچ کام کرلو تو کوئی گناہ تم کو نقصان نہیں پہنچائے گا:
(۱) جب تم گناہ کا ارادہ کرو تو اللہ کا رزق نہ کھاؤ، اس آدمی نے پوچھا کہ پوری روئے زمین پر اللہ ہی کا رزق ہے تو میں کہاں سے کھاؤں ؟ ابراہیم نے فرمایا کہ کیا یہ مناسب ہے کہ تم اللہ کا رزق کھاؤ اور پھر اسی کی نافرمانی کرو۔
(۲) دوسری بات یہ ہے کہ جب تم گناہ کا ارادہ کرو تو اللہ کی زمین پر نہ رہو، اس آدمی نے پوچھا کہ پوری زمین اللہ ہی کی ہے تو پھر میں کہاں رہوں ؟ ابراہیم نے فرمایا کہ کیا یہ مناسب ہے کہ تم اللہ کا رزق کھاؤ اور اس کی زمین میں رہو اورپھر اس کی معصیت کرو۔
(۳) تیسری بات یہ ہے کہ اگر تم گناہ کا ارادہ کرو جب کہ تم اللہ کی زمین پر اللہ کا رزق استعمال کررہے ہو تو اتنا کرو کہ ایسی جگہ ڈھونڈلو جہاں اللہ تم کو نہ دیکھ سکے، اس آدمی نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اللہ تو سب جگہ ہے اور سب کچھ جانتا ہے، ابراہیم نے فرمایا کہ کیا یہ مناسب ہے کہ تم اللہ کی زمین میں اس کا رزق استعمال کرتے ہوئے اس کی نافرمانی کرو جب کہ وہ تم کو دیکھ بھی رہا ہو اور تمہارا گناہ اس کے علم میں بھی ہو۔
(۴) چوتھی بات یہ ہے کہ جب ملک الموت تمہاری روح قبض کرنے آئے تو اس