۔ ىہ رواىت اگر طرىق معتبر سے ثابت ہو تو اس سے وہم ہوسکتا ہے کہ اطاعت خالق کا درجہ اور حقوق الٰہىہ کا مرتبہ ہر موقع پر حقوق والدىن سے کم ہے مگر اىسا نہىں ہے۔ معنىٰ حدىث کے ىہ ہىں کہ جو شخص اطاعت والدىن کرے ان امور مىں جہاں ان کى اطاعت جائز ہے خواہ وہ اطاعت واجبہ ہو ىا مستحبہ ہو تو اس برکت سے حقوق الٰہىہ ا ادا کرنا معاف ہوجاتا ہے اور جب کہ والدىن کے ضرورى حقوق ادا نہ کرے تو دىگر اعمال متعلق حقوق الٰہىہ ادا کرنے سے ىہ نافرمانى والدىن معاف نہىں ہوتى، پس نافرمان لکھا جاتاہے اس لىے کہ حقوق العباد باوجود قدرت بغىر ادا کىے ىا بغىر معافى اصحابِ حقوق ساقط نہىں ہوتے کہ اﷲغنى اور بندہ محتاج ہے۔ ىہ مطلب نہىں کہ والدىن کا غىر ضرورى حکم نہ ماننے سے باوجود اطاعت حقوق الٰہىہ بندہ نافرمان لکھا جائے۔ خوب سمجھ لو۔
اولاد کو اچھى تعلىم دىنا باپ پر فرض ہے
حضرت عمر فاروق رضى اللہ عنہ کى خدمت مىں کسى باپ نے اپنے بىٹے کى اس کو رنج و اىذاء دىنے کى شکاىت کى۔ آپ نے بىٹے سے وجہ درىافت کى اور کہا کہ تو خدا سے نہىں ڈرتا باپ کا حق بہت بڑا ہے۔ انہوں نے کہ موافق حکم حدىث مىرے ان پر (خاص طور پر) تىن حق تھے، نام اچھا رکھنا، تعلىم کرانا، شادى اچھى جگہ (شرعى طور پر ) کرنا کہ لڑکے کو طعنہ نہ دىں۔ بوجہ ماں کے رذىل