سے جو پىدائش انسان سے اصلى مقصود ہے محروم ہوجاتے، اور اپنے اصلى محبوب کى ىاد سے اور اس کے ذکر کى حقىقى لذت اور کمالات عالىہ سے محروم رہتے جس بغىر طالب خالق اکبر کو چىن ہى نہىں اور مقصود بھى وہى ہے جىسا کہ تمہىد مىں بىان کر چکا ہوں۔
انسانى پىدائش کا اصل مقصد
قرآن مجىد مىں فرماىا ہےوَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (56)الذاريات: اور ہم نے جن و انسان کو اپنى عبادت ہى کے لىے پىدا کىا ہے“۔
اور حدىث قدسى جو باعتبار سند ضعىف مگر ہمارے مقصود کو غىر مضر اور باعتبار تحقىق حضرات اہل کشف صحىح ہے اسى مضمون کو بتلاتى ہے اور وہ ىہ ہے
”كنت كنزا مخفيا فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق“
”مىں خزانہ پوشىدہ تھا، پس مىں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں سو پىدا کىا مىں نے مخلوق کو“
پس معلوم ہوا کہ عبادت الٰہى اور معرفت محبوب حقىقى مقصود ہے پىدا ئش مخلوق سے پس ہر جگہ اس کو مقدم رکھا جائے گا۔