شق رابع باطل ہے۔ اس لئے کہ ایسا مضارع کہ اس کے اوّل میں لام تاکید اور آخر میں نون تاکید ہو۔ بمعنی ماضی کہیں نہیں آیا۔ آپ قواعد نحو کو مانتے ہی نہیں۔ ایسے مضارع کا بمعنی ماضی آنا قرآن یا صحیح حدیث سے ثابت کیجئے۔ ودونہ خرط القتاد!
افسوس کہ آپ کو جب الزام موافق قواعد نحویہ اجماعیہ کے دیا جاتا ہے تو اس کو آپ تسلیم نہیں کرتے اور اگر آپ کے مسلمات سے آپ کو الزام دیا جاتا ہے تو بھی آپ قبول نہیں کرتے۔ یہ امر اوّل دلیل ہے۔ اس بات پر کہ آپ کو احقاق حق اور اظہار صواب ملحوظ نظر نہیں ہے۔
قولہ… (قادیانی) پھر اس کے بعد آپ نے نصوص صریحہ بینہ قرآن وحدیث سے ناامید ہوکر دوبارہ آیت ’’لیؤمنن‘‘ کے نون ثقیلہ پر زور دیا ہے۔
اقول… (محمد بشیر) ’’ان من اہل الکتاب‘‘ صریح وبین ہے اور نون ثقیلہ کا بمعنی استقبال کر دینا اس کے قطعیہ میں مخل نہیں ہے۔
قولہ… (قادیانی) اور جمہور مفسرین صحابہ اور تابعین سے تفرد اختیار کر کے محض اپنے خیال خام کی وجہ سے اس بات پر زور دیا ہے کہ آیت بوجہ نون ثقیلہ کے خالص استقبال کے لئے ہوگئی ہے۔
اقول… (محمد بشیر) یہ قول غلط محض ہے۔ جمہور مفسرین صحابہ اور تابعین نے اس آیت کا ہرگز بمعنی حال یا استمرار نہیں لیا ہے۔ اگر سچے ہو تو ثابت کرو۔ رہی یہ بات کہ بعض مفسرین نے ضمیر کتابی کی طرف راجع کی ہے۔ اس سے معنی حال یا استمرار لینا کسی طرح لازم نہیں آتا۔ سوائے آپ کے کوئی اہل علم ایسی بات منہ سے نہیں نکال سکتا۔ علاوہ ازیں اس تقدیر پر بھی استقبال ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ آپ پہلی تحریر میں اقرار کر چکے ہیں۔
قولہ… (قادیانی) ان معنوں پر زور دینے کے وقت آپ نے اس شرط کا کچھ خیال نہیں رکھا۔ جو پہلے ہم دونوں کے درمیان قرار پاچکی تھی کہ ’’قال اﷲ وقال الرسول‘‘ سے باہر نہیں جائیں گے۔
اقول… (محمد بشیر) ایک قاعدہ نحویہ اجماعیہ کو ’’قال اﷲ‘‘ میں جاری کرنا ’’قال اﷲ‘‘ سے کسی کے نزدیک خارج ہونا نہیں۔ یہ صرف آپ کا اجتہاد ہے۔ جس کا ثبوت آپ نہیں دے سکتے۔ بلکہ یہ خروج بقول آپ کے آپ پر لازم آگیا۔ کیونکہ آپ خود (ازالہ اوہام ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵) میں اس کے مرتکب ہوئے ہیں۔ عبارت آپ کی یہ ہے۔
وہ نہیں سوچتے کہ آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ سے پہلے یہ آیت ہے: ’’واذ قال اﷲ