سمجھتی ہے۔ ہم کو اور باقی مسلمانوں کو سرکش ملحد طائفہ کے ضرر سے خداوند تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔ اس واسطے ہم نے ملتمسین سے عذر بیان کئے۔ اوّلا کہ ہم بہت اشغال میں مصروف ہیں۔ ثانیاً کہ ہم ایسے کلمات کی طرف جو صریح جھوٹ ہیں۔ التفات نہیں چاہتے ہیں۔
پس ہم ایک پاؤں کو آگے بڑھاتے دوسرے کو پیچھے ہٹاتے۳؎ باوجود اس کے ملتمسین نے کوئی عذر مسموع نہیں کیا۔ انہوں نے ہم کو حیات مسیح علیہ السلام کی ثابت کرنے پر مجبور کیا۔ لہٰذا ہم نے ان کے سوال کو قبول کیا۔ جس طرز پر کہ انہوں نے التماس کیا تھا۔ ہم نے ان کی امید براری کی جس طریق پر انہوں نے چاہا تھا۔ یہ چند ورقہ مختصر طور پر ہم نے لکھے۔ اس کتاب کا نام ’’الالہام الصحیح فی اثبات حیات المسیح‘‘ رکھا۔
اوّل… ہم نے کادیانی کے دلائل کی حتی الوسع اصلاح اور تہذیب اور اچھی تنقیح کی بعدازاں اس کے دلائل کی تردید، تکذیب عمدہ طور پر لکھی۔ پس صریح طور پر حق واضح ہوا۔ مکاروں، فریب زدوں کا کام باطل ہوا۔ لہٰذا وہ لوگ اور ان کے گروہ جو کجرو ہے۔ شیطان کے لشکر ہیں۔ تمام سرنگوں ہوئے۔ خبردار ہوکہ ہم پروردگار کی مہربانی پر بھروسہ کر کے مطلب شروع کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر اس آیت مبارکہ سے استدلال کرتے ہیں۔ ’’وما محمد الارسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم علیٰ اعقابکم (آل عمران:۱۴۴)‘‘ {نہیں کہ ہیں حضرت محمدﷺ مگر اﷲ کے فرستادہ بلاشبہ آپ سے پہلے پیغمبر گزرے ہیں۔ کیا اگر آنحضرتﷺ مرجائیں یا مارے جائیں تو تم دین اسلام سے پھر جاؤ گے۔}
کادیانی کی استدلال کی تقریر اور اصلاح۴؎ یوں ہے کہ بتحقیق خلت کا معنی ’’مرگئے‘‘ ہیں۔ الرسل کا لفظ الف لام استغراقی کے ساتھ معرف ہے۔ اسی واسطے اس پر افائن مات متفرع ہوا۔ کیونکہ اگر خلو کا معنی موت نہ لیا جائے یا الرسل جمع مستغرق نہ ہو تو افائن مات کا اس پر متفرع ہونا صحیح نہیں ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ اس تفریع کی صحت آنحضرتﷺ کے الرسل میں داخل ہونے پر موقوف ہے۔ اس میں شبہ نہیں اور ظاہر ہے کہ نبیﷺ کا لفظ الرسل میں داخل ہونا تب ہی درست ہوگا جب کہ الرسل کا الف لام استغراقی ہوگا۔ ایسا ہی اس تفریع کی صحت اس پر موقوف ہے کہ خلو بمعنی موت ہو۔ اس لئے کہ اگر موت اور خلو کے درمیان غیریت سمجھیں۔ خلو کو موت سے عام لے لیں تو خاص کی تفریع عام پر لازم آوے گی۔ حالانکہ یہ غلط ہے کیا معلوم نہیں کہ تفریع تب ہی