Deobandi Books

احتساب قادیانیت جلد نمبر 42

677 - 736
درست ہوتی ہے کہ جب متفرع علیہ کو متفرع لازم ہو۔ ’’لا غیر‘‘ پر ظاہر ہے کہ خاص عام کو لازم نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ جو تفریع کلام الٰہی میں واقع ہے۔ اس کے لئے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک خلو بمعنی موت ہو۔
دوم…	الرسل کا جمع مستغرق ہونا۔ ان ہر دو مقدمتین سے ایک کو شکل اوّل کا صغریٰ دوسرے کو کبریٰ بنائیں گے۔ شکل یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام بے شک رسول ہیں۔ ہر رسول مرگئے ہیں۔ اب اس شکل سے جو وہ دویقینی مقدمتین سے مؤلف ہے۔ یہ نتیجہ نکلے گا کہ بے شک مسیح علیہ السلام مرگئے۔ یہی مطلوب تھا۔ صغریٰ۵؎ پر دلیل یہ کلام الٰہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف فرستادہ ہیں۔ نیز یہ کلام ربانی جس کا معنی یہ ہے کہ نہیں ہیں مسیح بن مریم علیہما السلام۔ مگر خداوند تعالیٰ کے فرستادہ ان کی مانند اور آیات بھی ہیں۔ جن سے مسیح علیہ السلام کا رسول ہونا ثابت ہوتا ہے اور آپ کا رسول ہونا کل اہل اسلام کے اجماع سے ثابت ہے۔ کبریٰ کے لئے دلیل وہ دو مقدمہ ہیں۔ جن کی تمہید اور اصلاح ہوچکی ہے۔ کیونکہ جب خلو بمعنی موت ہوا اور اس کی نسبت الرسل کی جانب کی گئی اور الرسل کا جمع ہونا ثابت ہوا۔ تو مسیح علیہ السلام کا الرسل میں داخل ہونا یقینا سمجھنا پڑے گا۔ جب ہی مسیح علیہ السلام کی موت کا کبریٰ کے ضمن میں ثابت ہونا لازم آوے گا۔ پس کادیانی کا مطلب پایہ ثبوت تک پہنچا۔ اس استدلال کی تردید وازالہ یوں ہے کہ یہ دونوں مقدمہ جو کبریٰ کے لئے تھے۔ دلیل بنائے گئے ہیں۔ مسلم نہیں ہیں۔ عدم صحت تفریع کا استحالہ اس صورت میں کہ دونوں مقدمہ یا ایک نہ پایا جائے۔ نیز مسلم نہیں ہم اس استدلال کو اس طرح پر بھی توڑیں گے کہ یہ استحالہ بہرحال لازم آوے گا۔ خواہ وہ دونوں مقدمہ مان لئے جائیںیا نہ۔ اب پہلے منع کی سند سنتے جائیں کہ خلو کا معنی گزرنا ہے۔ چنانچہ کتب لغات میں خلو کی بھی تفسیر موجود ہے۔ ہم ان کی نقلیں اس واسطے پیش نہیں کرتے کہ وہ باعث طول ہے اور یہ کتاب مختصر ہے۔ نیز جس کو علم سے کچھ تھوڑا بھی مس ہو وہ یہی کتب لغات کا ملاحظہ کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو ضرور کہہ دیں گے کہ خلو کا معنی کسی اہل لغت نے موت نہیں لکھا ہے۔ پس اس سے معلوم ہوگیا کہ اصلی اور حقیقی معنی خلو کا بجز گزرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو۔ حالانکہ یہ مرجح ہے۔ اس سے کہ قرآن شریف میں خلو کو منافقین کی طرف اس آیت میں نسبت کی گئی ہے۔
	اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ جب منافقین اپنے شیاطین کے پاس گزرتے اور جاتے ہیں۔ اس طرح پر خلو کو قرآن شریف میں سنین کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ دیکھو اس آیت کا 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عرض مرتب حضرت مولانا اﷲ وسایا مدظلہ 4 1
3 الحق الصریح فی اثبات حیات المسیح حضرت مولانا محمد بشیر شہسوانی ؒ 11 1
4 بیان للناس حضرت مولانا عبدالمجید دہلویؒ 127 1
5 شفاء للناس حضرت مولانا محمد عبداﷲ شاہجہانپوریؒ 239 1
6 النصر المبین فی رد اقوال الجاہلین حضرت مولانا دوست محمد خان بھوپالی ؒ 347 1
7 رقیمۃ الاخلاص ؍؍ ؍؍ ؍؍ 361 1
8 نصرۃ الحق فی رد القول الزاہق حضرت مولانا خلیل الرحمن بھوپالی ؒ 377 1
9 اعلاء الحق الصریح بتکذیب المسیح حضرت مولانا محمد اسماعیل علی گڑھیؒ 431 1
10 الفتح الربانی فی الرد علی القادیانی جناب شیخ حسین بن محسن انصاریؒ یمنی 473 1
11 قادیانی دجال کا استیصال حضرت مولانا سعد اﷲ لدھیانویؒ 497 1
12 دوسہ حرفیاں (چودھویں صدی کا جھوٹا مسیح) ؍؍ ؍؍ ؍؍ 535 1
13 نظم حقانی مسمّی بہ سرائر قادیانی ؍؍ ؍؍ ؍؍ 565 1
14 حملہ آسمانی دربارہ شکست قادیانی ؍؍ ؍؍ ؍؍ 587 1
15 حقوحق ؍؍ ؍؍ ؍؍ 605 1
16 الالہام الصحیح فی اثبات حیات مسیح حضرت مولانا غلام رسول نقشبندی حنفی امرتسریؒ 627 1
17 آفتاب صداقت حضرت مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی امرتسریؒ 673 1
18 نقل جواب اشتہارات مرزاقادیانی از جانب راقم 39 3
19 محمد بشیر سہسوانی کا دوسرا پرچہ 54 3
20 محمد بشیر بھوپالی کا تیسرا پرچہ 66 3
21 تحریر چہارم راقم مولانا بشیر کہسوانی 83 3
22 نظم دلپذیر ریختہ طبع وقاد وذہن نقاد گلشن آرای شیوا بیانے 122 3
23 نوٹس اتمام حجۃ نمبر:۱ 136 4
24 خط نمبر:۱ 137 4
25 خط نمبر:۲… از مولانا عبدالمجید دہلوی، بنام محمد احسن قادیانی 138 4
26 اقوال مرزاغلام احمد قادیانی مسیح احسن المناظرین مولوی محمد احسن امروہی 141 4
27 خط نمبر:۳… بہ طلب مناظرہ وبتاکید جواب خط نمبر:۲ 144 4
28 مرزاغلام احمد قادیانی مصنوعی مسیح اور فرضی مسیحوں کے افضل الفضلاء جناب مولوی محمد احسن صاحب احسن المناظرین امروہی 155 4
30 مرزاقادیانی کے بعض اقوال بطور نمونہ 193 4
31 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اخلاق کی نسبت مرزاقادیانی کا بیان 195 4
32 نوٹس منجانب خاکسار 235 4
33 اﷲ اور اس کے رسول پر افتراء 286 5
34 تدلیس درمعنی امامکم منکم کا ازالہ 291 5
35 تحقیق یضع الحرب 292 5
36 قتل دجال کی بحث 293 5
37 قادیانی مؤلف کی غلطیاں 297 5
38 بحث وشرائط مباہلہ 317 5
39 مرزاکے علی گڑھ آنے کی تفصیل 318 5
40 نزول مسیح، قرآن وسنت کی روشنی میں 327 5
41 قادیانیوں سے دس سوالات 343 5
42 تقریظ من جانب مولوی حافظ عبدالوہاب صاحب مدظلہ 346 5
43 خط محمد احسن قادیانی 355 6
44 مرزاغلام احمد قادیانی کے افتریٰ پردازی کی حسرت ناک نامرادی 357 6
45 قصیدہ در رد قادیانی از میر عباس علی لدھیانوی (سابق قادیانی) 357 6
47 (حصہ نثر) 498 11
48 (حصہ نظم) 506 11
49 نظم نمبر:۱ 507 48
50 نظم نمبر:۲ 512 48
51 نظم نمبر:۳ 517 48
52 نظم نمبر:۴ 522 48
53 نظم نمبر:۵ 523 48
54 تبصرہ! 524 11
56 (پہلی سہ حرفی) 537 12
57 دوسری سی حرفی 542 12
58 سہ حرفی ارڑپوپو 549 12
59 مرزا قادیانی کے قرآن پر ایمان کی حقیقت سوال وجواب کے پیرایہ میں 555 12
60 مرزاقادیانی کی اس نئی روشنی کا ماحصل 557 12
61 سارے جہان کے جھوٹے مسیحوں کی تردید کا بے مثال نغمہ 558 12
Flag Counter