درست ہوتی ہے کہ جب متفرع علیہ کو متفرع لازم ہو۔ ’’لا غیر‘‘ پر ظاہر ہے کہ خاص عام کو لازم نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ جو تفریع کلام الٰہی میں واقع ہے۔ اس کے لئے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک خلو بمعنی موت ہو۔
دوم… الرسل کا جمع مستغرق ہونا۔ ان ہر دو مقدمتین سے ایک کو شکل اوّل کا صغریٰ دوسرے کو کبریٰ بنائیں گے۔ شکل یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام بے شک رسول ہیں۔ ہر رسول مرگئے ہیں۔ اب اس شکل سے جو وہ دویقینی مقدمتین سے مؤلف ہے۔ یہ نتیجہ نکلے گا کہ بے شک مسیح علیہ السلام مرگئے۔ یہی مطلوب تھا۔ صغریٰ۵؎ پر دلیل یہ کلام الٰہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف فرستادہ ہیں۔ نیز یہ کلام ربانی جس کا معنی یہ ہے کہ نہیں ہیں مسیح بن مریم علیہما السلام۔ مگر خداوند تعالیٰ کے فرستادہ ان کی مانند اور آیات بھی ہیں۔ جن سے مسیح علیہ السلام کا رسول ہونا ثابت ہوتا ہے اور آپ کا رسول ہونا کل اہل اسلام کے اجماع سے ثابت ہے۔ کبریٰ کے لئے دلیل وہ دو مقدمہ ہیں۔ جن کی تمہید اور اصلاح ہوچکی ہے۔ کیونکہ جب خلو بمعنی موت ہوا اور اس کی نسبت الرسل کی جانب کی گئی اور الرسل کا جمع ہونا ثابت ہوا۔ تو مسیح علیہ السلام کا الرسل میں داخل ہونا یقینا سمجھنا پڑے گا۔ جب ہی مسیح علیہ السلام کی موت کا کبریٰ کے ضمن میں ثابت ہونا لازم آوے گا۔ پس کادیانی کا مطلب پایہ ثبوت تک پہنچا۔ اس استدلال کی تردید وازالہ یوں ہے کہ یہ دونوں مقدمہ جو کبریٰ کے لئے تھے۔ دلیل بنائے گئے ہیں۔ مسلم نہیں ہیں۔ عدم صحت تفریع کا استحالہ اس صورت میں کہ دونوں مقدمہ یا ایک نہ پایا جائے۔ نیز مسلم نہیں ہم اس استدلال کو اس طرح پر بھی توڑیں گے کہ یہ استحالہ بہرحال لازم آوے گا۔ خواہ وہ دونوں مقدمہ مان لئے جائیںیا نہ۔ اب پہلے منع کی سند سنتے جائیں کہ خلو کا معنی گزرنا ہے۔ چنانچہ کتب لغات میں خلو کی بھی تفسیر موجود ہے۔ ہم ان کی نقلیں اس واسطے پیش نہیں کرتے کہ وہ باعث طول ہے اور یہ کتاب مختصر ہے۔ نیز جس کو علم سے کچھ تھوڑا بھی مس ہو وہ یہی کتب لغات کا ملاحظہ کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تو ضرور کہہ دیں گے کہ خلو کا معنی کسی اہل لغت نے موت نہیں لکھا ہے۔ پس اس سے معلوم ہوگیا کہ اصلی اور حقیقی معنی خلو کا بجز گزرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو۔ حالانکہ یہ مرجح ہے۔ اس سے کہ قرآن شریف میں خلو کو منافقین کی طرف اس آیت میں نسبت کی گئی ہے۔
اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ جب منافقین اپنے شیاطین کے پاس گزرتے اور جاتے ہیں۔ اس طرح پر خلو کو قرآن شریف میں سنین کی طرف نسبت کی گئی ہے۔ دیکھو اس آیت کا