زیادہ ہوا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ جس مسیح علیہ السلام کی آمد کا آخری زمانہ میں وعدہ دیاگیا ہے وہ میں ہوں۔ دعویٰ کیا اس نے کہ مسیح علیہ السلام مرچکے ہیں۔ نہ وہ بجسدہ آسمان پر چڑھائے گئے ہیں۔ اس لئے وہ زمین پر بھی نہیں اتریں گے۔ا س نے برے عقائد ظاہر کئے۔ نہیں ہے اس کا ان لوگوں کے جو اس کے مطابق ہیں۔ مانند مطابقت فعل کے فعل کے ساتھ مقصود۔ مگر آبادیوں میں بگاڑ، فساد ڈالنا، تزندق پھیلانا، پلید کفریہ عقائد کا درمیان بندگان خدا شائع کرنا ان کے اعلیٰ مطالب ہیں۔ مع ہذا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ہدایت یاب ہیں۔ حالانکہ وہ سیدھی راہ سے برگشتہ ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان لایا، انہوں نے پھر کفر کیا۔ انہوں نے پس خداوند تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے۔ جس لئے سمجھتے نہیں ہیں۔ اس عقیدہ پر اگر وہ مر گئے تو وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے مونہوں کو آگ جلاوے گی۔ اس میں ترش رورہیں گے۔ کہا جائے گا ان سے کیا تم پر نہیں پڑھی گئی تھیں۔ ہماری آیتیں پس تھے تم ان کو جھٹلاتے۔ بدگمانی سلف صالحین کی نسبت کرتے ہیں۔ پھر گمان کرتے ہیں کہ ہم یہ کام اچھا کرتے ہیں۔ ہم ایسی قوم کے درمیان ہیں کہ سب علماء اور بعض فضلاء جن کا پیشہ ہے سب وشتم، طغیان ان کا حرفہ ہے۔ ان لوگوں کے حق میں جو نیکی کا امر، برائی سے منع کرتے ہیں۔ فصحیت کرنے کے لئے زبان درازی کرنا ان کا کام ہے نہ تو ان کو عقل سے حصہ، نہ دین کی سمجھ ہے۔ پوست، مغز، موتی، مٹی میں امتیاز نہیں کرتے۔ شیخ جنین وآہنی بآہنی میں فرق نہیں کر سکتے۔ ظلم، ظاہر گمراہی کے میدانوں میں وہ حیران ہیں۔ کیا نہیں جانتے کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔ جب کہ اس درجہ پر فساد پہنچا تو ہم سے بعض محبوں، دوستوں نے التماس کی کہ ہم کادیانی کے دلائل کا جو اس نے اپنے دعوے (کہ مسیح علیہ السلام مر گئے ہیں اور صرف ان کی روح مرفوع ہوئی ہے) پر پیش کئے ہیں۔ فاسد ہونا ظاہر کریں۔ ہم ان کی حیات آیات فرقانیہ کے ساتھ ہی صرف استدلال کر کے ثابت کریں اور احادیث نبویﷺ کو اس کے ثابت کرنے کے لئے نقل نہ کریں گے۔ اس۱؎ لئے کہ دراصل کادیانی اور اس کے متبعین حدیث کو مانتے نہیں ہیں۔ بغیر اس کے کہ ہم بجز اس عقیدہ کے اس کے اور عقائد فاسدہ اور ملمعات واہیہ کی جانب التفات کریں۔ کیونکہ وہ عقائد اس قدر مشہور نہیں ہوئے۔ جیسا کہ پہلا مسئلہ شہرت پاگیا ہے۲؎۔ چونکہ ہم کو بسبب اس کی کہ ہم کو کتب متداولہ قدیمہ کا مطالعہ، افتاء وتعلیم کا بہت شغل ہے۔ فراغت نہیں ہے۔ نیز ہماری طبیعت کادیانی وامثال کے خرافات کے جانب توجہ کرنے سے متنفر ہے ایسے جھوٹ کلمات کی طرف (جو کفریات اور ارتدادات صرفہ ہیں) ملتفت ہونے کو مکروہ سمجھتی