Deobandi Books

احتساب قادیانیت جلد نمبر 42

675 - 736
زیادہ ہوا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ جس مسیح علیہ السلام کی آمد کا آخری زمانہ میں وعدہ دیاگیا ہے وہ میں ہوں۔ دعویٰ کیا اس نے کہ مسیح علیہ السلام مرچکے ہیں۔ نہ وہ بجسدہ آسمان پر چڑھائے گئے ہیں۔ اس لئے وہ زمین پر بھی نہیں اتریں گے۔ا س نے برے عقائد ظاہر کئے۔ نہیں ہے اس کا ان لوگوں کے جو اس کے مطابق ہیں۔ مانند مطابقت فعل کے فعل کے ساتھ مقصود۔ مگر آبادیوں میں بگاڑ، فساد ڈالنا، تزندق پھیلانا، پلید کفریہ عقائد کا درمیان بندگان خدا شائع کرنا ان کے اعلیٰ مطالب ہیں۔ مع ہذا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ہدایت یاب ہیں۔ حالانکہ وہ سیدھی راہ سے برگشتہ ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان لایا، انہوں نے پھر کفر کیا۔ انہوں نے پس خداوند تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے۔ جس لئے سمجھتے نہیں ہیں۔ اس عقیدہ پر اگر وہ مر گئے تو وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے مونہوں کو آگ جلاوے گی۔ اس میں ترش رورہیں گے۔ کہا جائے گا ان سے کیا تم پر نہیں پڑھی گئی تھیں۔ ہماری آیتیں پس تھے تم ان کو جھٹلاتے۔ بدگمانی سلف صالحین کی نسبت کرتے ہیں۔ پھر گمان کرتے ہیں کہ ہم یہ کام اچھا کرتے ہیں۔ ہم ایسی قوم کے درمیان ہیں کہ سب علماء اور بعض فضلاء جن کا پیشہ ہے سب وشتم، طغیان ان کا حرفہ ہے۔ ان لوگوں کے حق میں جو نیکی کا امر، برائی سے منع کرتے ہیں۔ فصحیت کرنے کے لئے زبان درازی کرنا ان کا کام ہے نہ تو ان کو عقل سے حصہ، نہ دین کی سمجھ ہے۔ پوست، مغز، موتی، مٹی میں امتیاز نہیں کرتے۔ شیخ جنین وآہنی بآہنی میں فرق نہیں کر سکتے۔ ظلم، ظاہر گمراہی کے میدانوں میں وہ حیران ہیں۔ کیا نہیں جانتے کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔ جب کہ اس درجہ پر فساد پہنچا تو ہم سے بعض محبوں، دوستوں نے التماس کی کہ ہم کادیانی کے دلائل کا جو اس نے اپنے دعوے (کہ مسیح علیہ السلام مر گئے ہیں اور صرف ان کی روح مرفوع ہوئی ہے) پر پیش کئے ہیں۔ فاسد ہونا ظاہر کریں۔ ہم ان کی حیات آیات فرقانیہ کے ساتھ ہی صرف استدلال کر کے ثابت کریں اور احادیث نبویﷺ کو اس کے ثابت کرنے کے لئے نقل نہ کریں گے۔ اس۱؎ لئے کہ دراصل کادیانی اور اس کے متبعین حدیث کو مانتے نہیں ہیں۔ بغیر اس کے کہ ہم بجز اس عقیدہ کے اس کے اور عقائد فاسدہ اور ملمعات واہیہ کی جانب التفات کریں۔ کیونکہ وہ عقائد اس قدر مشہور نہیں ہوئے۔ جیسا کہ پہلا مسئلہ شہرت پاگیا ہے۲؎۔ چونکہ ہم کو بسبب اس کی کہ ہم کو کتب متداولہ قدیمہ کا مطالعہ، افتاء وتعلیم کا بہت شغل ہے۔ فراغت نہیں ہے۔ نیز ہماری طبیعت کادیانی وامثال کے خرافات کے جانب توجہ کرنے سے متنفر ہے ایسے جھوٹ کلمات کی طرف (جو کفریات اور ارتدادات صرفہ ہیں) ملتفت ہونے کو مکروہ سمجھتی
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عرض مرتب حضرت مولانا اﷲ وسایا مدظلہ 4 1
3 الحق الصریح فی اثبات حیات المسیح حضرت مولانا محمد بشیر شہسوانی ؒ 11 1
4 بیان للناس حضرت مولانا عبدالمجید دہلویؒ 127 1
5 شفاء للناس حضرت مولانا محمد عبداﷲ شاہجہانپوریؒ 239 1
6 النصر المبین فی رد اقوال الجاہلین حضرت مولانا دوست محمد خان بھوپالی ؒ 347 1
7 رقیمۃ الاخلاص ؍؍ ؍؍ ؍؍ 361 1
8 نصرۃ الحق فی رد القول الزاہق حضرت مولانا خلیل الرحمن بھوپالی ؒ 377 1
9 اعلاء الحق الصریح بتکذیب المسیح حضرت مولانا محمد اسماعیل علی گڑھیؒ 431 1
10 الفتح الربانی فی الرد علی القادیانی جناب شیخ حسین بن محسن انصاریؒ یمنی 473 1
11 قادیانی دجال کا استیصال حضرت مولانا سعد اﷲ لدھیانویؒ 497 1
12 دوسہ حرفیاں (چودھویں صدی کا جھوٹا مسیح) ؍؍ ؍؍ ؍؍ 535 1
13 نظم حقانی مسمّی بہ سرائر قادیانی ؍؍ ؍؍ ؍؍ 565 1
14 حملہ آسمانی دربارہ شکست قادیانی ؍؍ ؍؍ ؍؍ 587 1
15 حقوحق ؍؍ ؍؍ ؍؍ 605 1
16 الالہام الصحیح فی اثبات حیات مسیح حضرت مولانا غلام رسول نقشبندی حنفی امرتسریؒ 627 1
17 آفتاب صداقت حضرت مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی امرتسریؒ 673 1
18 نقل جواب اشتہارات مرزاقادیانی از جانب راقم 39 3
19 محمد بشیر سہسوانی کا دوسرا پرچہ 54 3
20 محمد بشیر بھوپالی کا تیسرا پرچہ 66 3
21 تحریر چہارم راقم مولانا بشیر کہسوانی 83 3
22 نظم دلپذیر ریختہ طبع وقاد وذہن نقاد گلشن آرای شیوا بیانے 122 3
23 نوٹس اتمام حجۃ نمبر:۱ 136 4
24 خط نمبر:۱ 137 4
25 خط نمبر:۲… از مولانا عبدالمجید دہلوی، بنام محمد احسن قادیانی 138 4
26 اقوال مرزاغلام احمد قادیانی مسیح احسن المناظرین مولوی محمد احسن امروہی 141 4
27 خط نمبر:۳… بہ طلب مناظرہ وبتاکید جواب خط نمبر:۲ 144 4
28 مرزاغلام احمد قادیانی مصنوعی مسیح اور فرضی مسیحوں کے افضل الفضلاء جناب مولوی محمد احسن صاحب احسن المناظرین امروہی 155 4
30 مرزاقادیانی کے بعض اقوال بطور نمونہ 193 4
31 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اخلاق کی نسبت مرزاقادیانی کا بیان 195 4
32 نوٹس منجانب خاکسار 235 4
33 اﷲ اور اس کے رسول پر افتراء 286 5
34 تدلیس درمعنی امامکم منکم کا ازالہ 291 5
35 تحقیق یضع الحرب 292 5
36 قتل دجال کی بحث 293 5
37 قادیانی مؤلف کی غلطیاں 297 5
38 بحث وشرائط مباہلہ 317 5
39 مرزاکے علی گڑھ آنے کی تفصیل 318 5
40 نزول مسیح، قرآن وسنت کی روشنی میں 327 5
41 قادیانیوں سے دس سوالات 343 5
42 تقریظ من جانب مولوی حافظ عبدالوہاب صاحب مدظلہ 346 5
43 خط محمد احسن قادیانی 355 6
44 مرزاغلام احمد قادیانی کے افتریٰ پردازی کی حسرت ناک نامرادی 357 6
45 قصیدہ در رد قادیانی از میر عباس علی لدھیانوی (سابق قادیانی) 357 6
47 (حصہ نثر) 498 11
48 (حصہ نظم) 506 11
49 نظم نمبر:۱ 507 48
50 نظم نمبر:۲ 512 48
51 نظم نمبر:۳ 517 48
52 نظم نمبر:۴ 522 48
53 نظم نمبر:۵ 523 48
54 تبصرہ! 524 11
56 (پہلی سہ حرفی) 537 12
57 دوسری سی حرفی 542 12
58 سہ حرفی ارڑپوپو 549 12
59 مرزا قادیانی کے قرآن پر ایمان کی حقیقت سوال وجواب کے پیرایہ میں 555 12
60 مرزاقادیانی کی اس نئی روشنی کا ماحصل 557 12
61 سارے جہان کے جھوٹے مسیحوں کی تردید کا بے مثال نغمہ 558 12
Flag Counter