میں ایمان نفع دے گا یا نہیں۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ زمانہ مسیح اور خروج دجال جب ایک ہوگا نفع نہیں دے گا اور جس حالت میں مرزاقادیانی نے خروج دجال کا گذر جانا حمامتہ البشریٰ میں تحریر کیا ہے اور یہ حدیث جو آپ نے پیش کی ہے۔ مطابق اس کے یہ اعتراض بھی مرزاقادیانی کے اوپر پڑتا ہے۔ بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے کہا کہ مرزاقادیانی کے اوپر کیسے اعتراض پڑتا ہے۔ میں ثابت کروں گا۔ قرآن اور حدیث اور بیضاوی سے کہ بعد طلوع الشمس من مغربہا اور خروج دجال کے ایمان نفع دے گا اور معتبر ہوگا۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ آپ قرآن مجید سے یا حدیث سے یا بیضاوی سے ثابت کریں۔ لیکن طول تقریر نہ کریں۔ جیسا کہ میں نے آپ کو صحیح مسلم میں حدیث دکھلائی ہے۔ آپ بھی دکھلادیں۔ کسی کا قول یا مرزاقادیانی کی تحریر میں نہ مانوں گا۔ بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی سب کے سامنے کہا کہ بیضاوی میں دکھادوں گا۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے دریافت فرمایا کہ بیضاوی یہاں ہے مولوی مرید احمد صاحب نے فرمایا کہ میرے پاس کرنپور میں ہے۔ اسی عرصہ میں اذان عصر ہوگئی اور سب صاحبان موجود مسجد چلنے کو تیار ہوگئے اور مولوی احمد علی صاحب نے مولوی مرید احمد صاحب سے بیضاوی لانے کو اور محمد حنیف سے حمامتہ البشریٰ مولوی خلیل الرحمن صاحب کے پاس سے منگوانے کو فرمایا اور جلسہ کل ۲۲؍جولائی ۱۸۹۵ء پر منحضر ہوا اور نماز کے لئے مسجد میں آگئے۔ بعد نماز عصر کے مولوی احسن قادیانی، مولوی احمد علی صاحب کے ہمراہ لے کر پیر جی خدابخش صاحب کی دوکان پر تشریف لائے۔ پھر مولوی احسن قادیانی اپنے مناظرے اور مرزاقادیانی کے تصنیفات سناتے رہے اور تین چار کتابیں مثل رسالہ شاہین بطور دکھلانے اور ظاہر کرنے تحریر مرازاقادیانی کے مولوی احمد علی صاحب کو دیں۔ مولوی احمد علی صاحب پلٹن بازار کی مسجد کو تشریف لے گئے اور کل کے جلسہ میں فیما بین جو تقریر وقوع میں آوے گی ضبط تحریر ہوگی۔ مورخہ ۲۱؍جولائی ۱۸۹۵ئ۔
۲۲؍جولائی ۱۸۹۵ء کو مرزاکریم بیگ صاحب داروغہ اسکوٹر گورنر جنرل صاحب بہادر نے مہمانداری مولوی احمد علی صاحب ونیز جلسہ وعظ مقرر کیا۔ چنانچہ آج جلسہ متنازعہ فیما ملتوی رہا۔ کل پر منحضر رکھا گیا۔ ۲۳؍جولائی ۱۸۹۵ء وقت ۴؍بجے شام کے مولوی احمد علی صاحب ومولوی احسن قادیانی واسطے نماز عصر کے مسجد وہامانوالہ میں موجود تھے۔ نماز سے فارغ ہوکر مولوی احسن قادیانی نے کہا کہ قیام جلسہ پیر جی خدابخش صاحب کے مکان پر کیا جاوے تو بہتر ہے۔ بجواب