اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ جلسہ مسجد میں بہتر ہے۔ عام ہونا چاہئے۔ چونکہ اس بات کا چرچہ کئی روز سے تھا۔ بہت لوگ مشتاق تھے کرنپور سے مولوی مریداحمد صاحب ومولوی دوست محمد معہ چند ولایتوں کے اورنی نگر سے مولوی خلیل الرحمن ومولوی الہ دیا صاحب وضلع دار صاحب انہار ومنشی خلیل الرحمان صاحب ودیگر صاحبان وپلٹن بازار سے حافظ محمد شریف صاحب ودیگر چند صاحبان غرضیکہ ایک مجمع کثیر مسجد میں جمع ہوا۔ مولوی احمد علی صاحب نے یہ فرمایا کہ کتاب (حمامتہ البشریٰ ص۸۳، خزائن ج۷ ص۳۰۲) میں مرزاقادیانی نے یہ عبارت لکھی ہے۔ ’’فاعلم ان ہذہ الانناء قد تمت کلہا ووقعت کما کان فی الاثار المنتقاۃ المدونہ عن الشقات ولکن الناس ماعرفوہا وکانوا غفلین‘‘ کہ جس کے معنی یہ ہیں کہ خروج دجال ودابۃ الارض وطلوع الشمس من مغربہا ہوچکا اور مولوی احسن قادیانی کو دکھلائے گئے اور یہ حدیث ’’عن ابی ہریرۃ ان رسول اﷲﷺ قال لا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من مغربہا فاذا طلعت الشمس من مغربہا امن الناس کلہم اجمعون فیومئذ لا ینفع نفسا ایمانہا لم تکن اٰمنت من قبل اوکسبت فی ایمانہا خیرا‘‘ صحیح مسلم میں دکھلائی کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ بعد طلوع الشمس من مغربہا کی ایمان نفع نہ دے گا۔ مولوی احسن قادیانی نے تسلیم کیا اب مولوی احسن قادیانی اس کے ثبوت میں کہ بعد طلوع الشمس من مغربہا کے ایمان نفع دے گا۔ آیات قرآنی یا صحیح مسلم یا صحیح بخاری یا بیضاوی شریف یا کسی مستند کتاب سے اس کا جواب پیش کریں۔ ان کے مقابلہ میں کسی کا قول خواہ مرزاقادیانی کا ہو یا اور کسی کا ہرگز نہیں مانا جاوے گا۔
بیضاوی شریف اور قرآن مجید موجود ہے۔ بجواب اس کے مولوی احسن قادیانی نے کہا کہ اس حدیث کے یہ معنی نہیں جومولوی صاحب سمجھ رہے ہیں۔ طلوع الشمس من مغربہا سے یہ شمس مراد نہیں ہے۔ جیسا کہ عام سمجھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ممالک مغربی میں جو ظلمات کفر پھیل رہا تھا وہاں آفتاب اسلام چمک رہا ہے۔ یعنی لیور پول وغیرہ میں لوگ ایمان لے آئے ہیں۔ بجواب اس کے مولوی احمد علی صاحب نے فرمایا کہ آپ آفتاب کے کچھ ہی معنی سمجھئے۔ جب مرزاقادیانی قد تمت کلہا کے ساتھ حمامتہ البشریٰ میں تحریر فرماچکے ہیں تو اس میں طلوع الشمس من مغربہا بھی آچکا ہے اور یہ آپ نے کہا کہ تم اس کا ترجمہ نہیں سمجھے تو مولانا صاحب مہربانی کر کے اس حدیث کا جو کچھ اور ترجمہ ہو کیجئے گا اور مجھ کو سمجھا دیجئے۔ مولوی احسن قادیانی نے ترجمہ نہیں کیا