ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2011 |
اكستان |
|
عثمان صنے فرمایا کہ (لوگوں کا دستور ہوا کرے اِس سے مجھے مطلب نہیں) ''میرے آقا (حضرت محمد مصطفی ۖ)کا طریقہ نصف پنڈلی تک پائینچہ رکھنے کا ہے۔'' (حیاة الصحابہ ٦٤٦٢) ایک طرف صحابی ٔرسول ۖ کا عمل دیکھیے دُوسری طرف اپنے معاشرہ کا جائزہ لیجئے کہ آج بڑے بڑے مدعیانِ محبت دَھڑلے سے ٹخنے سے نیچے تک پائیجامہ وغیرہ پہنتے ہیں اَور اِس عمل کی برائی تک اُن کے دِلوں سے نکل چکی ہے۔ فَیَا لَلْعَجَبِ ! نقوشِ قدم کی تلاش : حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عمر صکا معمول تھا کہ جب مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کا سفر فرماتے تو کوشش کرتے کہ اُن مقامات پر پڑاؤ ہو جہاں نبی ٔکریم ۖ نے اپنے اَسفار کے درمیان قیام فرمایا تھا اَور بسااَوقات اپنی سواری کی نکیل اِدھر سے اُدھر کرتے ہوئے فرماتے کہ ''شاید میری اُونٹنی کا قدم اُس جگہ پر پڑجائے جہاں سفر کے دَوران پیغمبر علیہ السلام کی سواری کا قدم پڑا تھا۔'' اَور حضرت عبد اللہ بن عمر صکا یہ شوق اِس قدر بڑھا ہواتھا کہ آپ کے شاگردِ رشید حضرت نافع فرماتے ہیں کہ: ''اگر تم لوگ حضرت عبد اللہ بن عمر صکے پیغمبر علیہ السلام کے نقوشِ قدم تلاش کرنے کے جذبہ کو دیکھ لیتے تو تم سمجھتے کہ شاید وہ مجنون ہیں۔''(حیاة الصحابہ ٦٥٥٢) اَور یہی حال سب صحابہ ث کا تھا، زندگی کے ہر شعبہ میں وہ اُسوۂ مبارکہ کی تلاش میں رہتے تھے، اُنہوں نے پیغمبر علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ کے پیکر میں اپنے آپ کو ڈھال لیا تھا۔ باقاعدہ مجلسیں لگاکر عبادات، معاشرت اَور معاملات میں اُسوۂ حسنہ کی یاد دہانی کرائی جاتی تھی۔ بعض صحابہ ث کو بعض مسائل میں اِختصاص کا درجہ حاصل تھااَور وہ گویا اُن مسائل کی عملی مشق کرایا کرتے تھے۔ صحیح روایات میں ہے کہ سیّدنا حضرت عثمان غنی ص اَور سیّدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ حاضرین کے سامنے وضو کرکے دِکھلاتے اَور پھر فرماتے کہ پیغمبر علیہ السلام وضو اِس طرح فرماتے تھے۔ بعض صحابہث نماز کے طریقہ کو بتانے میں مشہور تھے چنانچہ حضرت اَبو حمید ساعدی حضرت عبد اللہ بن مسعود اَور حضرت اَبوہریرہ ثکی تفصیلی روایات اِس باب میں مشہور ہیں۔ اَور واقعہ یہ ہے کہ اَگر حضراتِ صحابہ ث پیغمبر علیہ السلام کی زندگی کے اِن گوشوں پر گہری نظر رکھ کر اِن تفصیلات سے اُمت کو آگاہ نہ فرماتے تو سنت کے کتنے اَبواب اَور