Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2011

اكستان

48 - 65
عثمان صنے فرمایا کہ (لوگوں کا دستور ہوا کرے اِس سے مجھے مطلب نہیں) ''میرے آقا (حضرت محمد مصطفی ۖ)کا طریقہ نصف پنڈلی تک پائینچہ رکھنے کا ہے۔'' (حیاة الصحابہ ٦٤٦٢)
ایک طرف صحابی ٔرسول  ۖ کا عمل دیکھیے دُوسری طرف اپنے معاشرہ کا جائزہ لیجئے کہ آج بڑے بڑے مدعیانِ محبت دَھڑلے سے ٹخنے سے نیچے تک پائیجامہ وغیرہ پہنتے ہیں اَور اِس عمل کی برائی تک اُن کے دِلوں سے نکل چکی ہے۔ فَیَا لَلْعَجَبِ !
نقوشِ قدم کی تلاش  :
 حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عمر صکا معمول تھا کہ جب مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کا سفر فرماتے تو  کوشش کرتے کہ اُن مقامات پر پڑاؤ ہو جہاں نبی ٔکریم  ۖ نے اپنے اَسفار کے درمیان قیام فرمایا تھا اَور  بسااَوقات اپنی سواری کی نکیل اِدھر سے اُدھر کرتے ہوئے فرماتے کہ ''شاید میری اُونٹنی کا قدم اُس جگہ پر پڑجائے جہاں سفر کے دَوران پیغمبر علیہ السلام کی سواری کا قدم پڑا تھا۔'' اَور حضرت عبد اللہ بن عمر صکا یہ شوق اِس قدر بڑھا ہواتھا کہ آپ کے شاگردِ رشید حضرت نافع   فرماتے ہیں کہ: ''اگر تم لوگ حضرت عبد اللہ بن عمر صکے پیغمبر علیہ السلام کے نقوشِ قدم تلاش کرنے کے جذبہ کو دیکھ لیتے تو تم سمجھتے کہ شاید وہ مجنون ہیں۔''(حیاة الصحابہ ٦٥٥٢)
اَور یہی حال سب صحابہ ث کا تھا، زندگی کے ہر شعبہ میں وہ اُسوۂ مبارکہ کی تلاش میں رہتے تھے، اُنہوں نے پیغمبر علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ کے پیکر میں اپنے آپ کو ڈھال لیا تھا۔ باقاعدہ مجلسیں لگاکر عبادات، معاشرت اَور معاملات میں اُسوۂ حسنہ کی یاد دہانی کرائی جاتی تھی۔ بعض صحابہ ث کو بعض مسائل میں اِختصاص کا درجہ حاصل تھااَور وہ گویا اُن مسائل کی عملی مشق کرایا کرتے تھے۔ 
صحیح روایات میں ہے کہ سیّدنا حضرت عثمان غنی ص اَور سیّدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ حاضرین کے سامنے وضو کرکے دِکھلاتے اَور پھر فرماتے کہ پیغمبر علیہ السلام وضو اِس طرح فرماتے تھے۔ بعض صحابہث  نماز کے طریقہ کو بتانے میں مشہور تھے چنانچہ حضرت اَبو حمید ساعدی حضرت عبد اللہ بن مسعود اَور حضرت اَبوہریرہ ثکی تفصیلی روایات اِس باب میں مشہور ہیں۔ اَور واقعہ یہ ہے کہ اَگر حضراتِ صحابہ ث پیغمبر علیہ السلام کی زندگی کے اِن گوشوں پر گہری نظر رکھ کر اِن تفصیلات سے اُمت کو آگاہ نہ فرماتے تو سنت کے کتنے اَبواب اَور
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف اول 4 1
4 درس حديث 6 1
5 حرم مکہ کی اِبتدائی حالت : 7 4
6 حضرتِ عباس چاہ زم زم کے متولی : 7 4
7 حضرت اَبو ذر کے اِسلام لانے کا قصہ : 8 4
8 حضرت عمر نے دِیوار بنوائی : 8 4
9 کفار کی تنگ نظری اَورعدمِ برداشت : 9 4
10 بنو اِسرائیل کی مختصر تاریخ : 10 4
11 بنی اِسرائیل پر اللہ کی پکڑ : 10 4
12 اَنصار کی مختصر تاریخ : 11 4
13 یمن سے نقل مکانی : 11 4
14 یہودی سود خور، ظالم ،بے حیاء : 11 4
15 بے حیاء یہودیوں کی خوش فہمی : 12 4
16 اَنصار کا قبولِ اِسلام میں سبقت لے جانا : 12 4
17 تعلیم ِدین کے لیے صحابی کی مدینہ منورہ آمد : 12 4
18 ہجرت کیوں فرض ہوئی؟ 13 4
19 یمن کے حکمران کی آمد ،آپ کے لیے مکان بنایا اَور وصیت نامہ لکھا : 14 4
20 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٧ 15 1
21 اِسلام کا اِقتصادی نظام 15 20
22 سوالات و جوابات 15 20
23 اِقتصادی اُصول 16 20
24 سیاسیات اَور نظام ِ حکومت کے بنیادی اُصول 18 20
25 بنیادی حقوق 18 20
26 (١٨) مذہبیات : 19 20
27 جہاد 20 20
28 تشریحات و اِقتباسات 20 20
29 کمیونزم :(COMMUNISM) 20 20
30 سوشلزم : (SOCIALISM) 21 20
31 کیپٹیلزم : (CAPITALISM) 21 20
32 اِمپیریلزم : (IMPERIALISM) 21 20
33 قرآنِ کریم میں عادت اللہ بتلائی گئی ہے : 22 20
34 بینکاری سسٹم سودی رائج کیا جائے گا یا غیر سودی؟ 24 20
35 اِسلام میں مساوات کا تصور کہا ں تک ہے 24 20
36 کیا غلامانہ تصور اِسلام کا صحیح ہے 25 20
37 قسط : ١٨ اَنفَاسِ قدسیہ 26 1
38 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 26 37
39 عزم و اِستقلال : 26 37
40 قسط : ٤ پردہ کے اَحکام 31 1
41 عورت کے لیے پردہ عقل و فطرت کا مقتضی ہے 31 40
42 بے پردگی کا ثمرہ : 31 40
43 عورتوں کو آزادی دینے کی خرابی : 33 40
44 بے حیائی ،بے باکی و بے غیرتی : 34 40
45 بے پرد گی کے حامی : 34 40
46 مرد عورت کے درمیان مساوات کا بھوت : 35 40
47 کیا پردہ تعلیم اَور دُنیوی ترقی کی راہ میں رُکاوٹ ہے : 35 40
48 کیا پردہ عورت کے لیے قیدو ظلم ہے؟ 36 40
49 پردہ میں غلو اَور عورت پر ظلم، مردوں کی ذمہ داری : 37 40
50 پردہ کی وجہ سے بے خبری اَور بھولے پن کا شبہ : 37 40
51 وفیات 38 1
52 محرم الحرام کی فضیلت 39 1
53 قسم اَوّل کے منکرات : 41 52
54 قسط : ٤،آخری صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 45 1
55 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 45 54
56 پیغمبر علیہ السلام کی حد درجہ تعظیم : 45 54
57 حکمِ نبوی کی فوری تعمیل : 47 54
58 ہمارے آقا ۖ کا تو طریقہ یہی ہے : 47 54
59 نقوشِ قدم کی تلاش : 48 54
60 ذِکرِحَسنَین رضی اللہ عنہما 50 1
61 اَکابر کی نظر میں تجوید کی اہمیت 51 1
62 مدرسہ صولتيه مکہ مکرمہ کا آغاز : 51 61
63 مدرسہ صولتیہ کی تعمیر : 51 61
64 حضرت قاری عبداللہ صاحب مکی کی آمد : 52 61
65 آغازِ تدریس : 52 61
66 حضرت قاری عبداللہ صاحب مکی کی مدرسہ سے محبت : 53 61
67 لمحہ فکریہ : 53 61
68 شیخ القراء اِبراہیم سعد مصری : 53 61
69 شیخ علی الضبّاع مصری : 53 61
70 خواب میں حضرت علی مرتضی کی اَذان : 54 61
71 حضرت قاری محمد شریف صاحب : 54 61
72 اِرتقائی اہم اصول : 54 61
73 ہفتہ وار اِصلاحی محفلِ قراء ٰت : 54 61
74 ایک محفل کا واقعہ : 55 61
75 55 61
76 حضرت مولانا اَشرف علی صاحب تھانوی : 56 61
77 دُکھی دِل کی بات : 56 61
78 ہر بیماری کا علاج ہے : 57 61
79 تجوید کی اہمیت : 57 61
80 دُوسرا واقعہ : 57 61
81 تجوید وہ جادُو ہے جو سر چڑھ کے بولے : 58 61
82 بندہ راقم تقی : 58 61
83 نئے اِسلامی سال کاپیغام 59 1
84 دُنیاکی حقیقت : 59 83
85 منزل کیاہے ؟ 61 83
86 ہماری مصروفیات کیاہیں ؟ 62 83
87 اَخبار الجامعہ 63 1
88 بقیہ : نئے اِسلامی سال کا پیغام 64 83
Flag Counter