Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2011

¾اكستان Ù

9 - 65
 تو یہ جب حاضرِ خدمت ہوئے تو مسلمان ہوگئے اَور اِسلام قبول کرنے کے بعد پھر رسول اللہ  ۖ  نے اِنہیں فرمایا تھا کہ آپ اپنے گھر چلے جائیں وہاں(اِس عقیدہ کے ساتھ ) یہ یہ عبادتیں ہیں یہ کرتے رہیں اَور معاملات جو بھی ہوئے ہوں گے وہ اِرشاد فرمادیے کچھ چیزیں ایسی ہیں جو پہلے سے دُنیا بھر میں معروف چلی آرہی ہیں ظلم کرنا، کسی کا مال چھینا وغیرہ وغیرہ یہ سب چیزیں ہمیشہ سے بری سمجھی جاتی رہی ہیں اِنسان اِنہیں برا ہی سمجھتا ہے تو اِنہوں نے اِنہیں ہدایت کی کہ وہاں چلے جاؤ اَور اِس طرح سے کرتے رہو اَور کسی کو بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہے کوئی کہ تم بتلاؤ کہ مسلمان ہوئے ہویا نہیں گویا اِس قسم کی ہدایات آقائے نامدار  ۖ نے اِنہیں دے دیں اَور رُخصت کرنا چاہا، تو اِنہوں نے کہا جواب میں کہ میں تو ضرور علی الاعلان سب کو کہوں گا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں تو یہ اِن کے جذبات تھے رسول اللہ  ۖ نے نہیں فرمایا کہ تم یہ کرو بلکہ اِن کے اپنے جذبات تھے یہ کہ میں ایسے کروں۔
 کفار کی تنگ نظری اَورعدمِ برداشت  :
چنانچہ اَگلے دِن اِنہوں نے اِسی طرح کیا اَور لوگوں نے جب دیکھا کہ یہ مسلمان ہوگئے تو وہ ٹوٹ پڑے اِن پہ، مارنا شروع کردیا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آ کے چھڑا یا اِنہیں مگر اِس طرح نہیں کہ میری خاطر چھوڑ دو ایسے نہیں چھوڑنے والے تھے یہ لوگ کسی کی خاطر کسی کے لحاظ سے چھوڑ نے والے نہیں تھے پورے بد لحاظ تھے اِن کو اِن کا فائدہ سُجھایا کہ دیکھو اگر تم نے اِس طرح مار ڈالا اِنہیں تو پھر تمہارے فلاں راستے سے گہیوں آتا ہے وہ آنا بند ہوجائے گا کیونکہ وہ تو یہی صورت تھی قبیلوں میں لڑا ئی چھڑ جاتی تھی راستے بند ہوجاتے تھے قصہ ہی ختم ہوجاتا تھا، جب تک مکافات نہ کریں ایک جھگڑا کھڑا ہوجائے گا بہت تکلیف کا باعث ہوگا حضرت اَبوذر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی کہا بالکل نہیں آسکے گا بہرحال آگئے پھر ٹھہرے، اَگلے دِن پھر اِسی طرح علی الاعلان اُنہوں نے تبلیغ بھی کی اِظہار بھی کیا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں پھر اِسی طرح سے اُن کو مارا پھر اِسی طرح حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بچایا۔ جیسے میں نے آپ کو نقشہ بتایا ہے کعبة اللہ کا اَور اُس کے گرد صرف میدان کا اَور اُس کے گرد مکانات آس پاس اِدھر اُدھر آبادی تو وہ(حضرت عباس) آگئے دونوں دفعہ اَور وہ ہمیشہ سے ہمدرد رہے ہیں رسول اللہ  ۖ  کے اَور اِسلام کے خیر خواہ رہے ہیں۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف اول 4 1
4 درس حديث 6 1
5 حرم مکہ کی اِبتدائی حالت : 7 4
6 حضرتِ عباس چاہ زم زم کے متولی : 7 4
7 حضرت اَبو ذر کے اِسلام لانے کا قصہ : 8 4
8 حضرت عمر نے دِیوار بنوائی : 8 4
9 کفار کی تنگ نظری اَورعدمِ برداشت : 9 4
10 بنو اِسرائیل کی مختصر تاریخ : 10 4
11 بنی اِسرائیل پر اللہ کی پکڑ : 10 4
12 اَنصار کی مختصر تاریخ : 11 4
13 یمن سے نقل مکانی : 11 4
14 یہودی سود خور، ظالم ،بے حیاء : 11 4
15 بے حیاء یہودیوں کی خوش فہمی : 12 4
16 اَنصار کا قبولِ اِسلام میں سبقت لے جانا : 12 4
17 تعلیم ِدین کے لیے صحابی کی مدینہ منورہ آمد : 12 4
18 ہجرت کیوں فرض ہوئی؟ 13 4
19 یمن کے حکمران کی آمد ،آپ کے لیے مکان بنایا اَور وصیت نامہ لکھا : 14 4
20 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٧ 15 1
21 اِسلام کا اِقتصادی نظام 15 20
22 سوالات و جوابات 15 20
23 اِقتصادی اُصول 16 20
24 سیاسیات اَور نظام ِ حکومت کے بنیادی اُصول 18 20
25 بنیادی حقوق 18 20
26 (١٨) مذہبیات : 19 20
27 جہاد 20 20
28 تشریحات و اِقتباسات 20 20
29 کمیونزم :(COMMUNISM) 20 20
30 سوشلزم : (SOCIALISM) 21 20
31 کیپٹیلزم : (CAPITALISM) 21 20
32 اِمپیریلزم : (IMPERIALISM) 21 20
33 قرآنِ کریم میں عادت اللہ بتلائی گئی ہے : 22 20
34 بینکاری سسٹم سودی رائج کیا جائے گا یا غیر سودی؟ 24 20
35 اِسلام میں مساوات کا تصور کہا ں تک ہے 24 20
36 کیا غلامانہ تصور اِسلام کا صحیح ہے 25 20
37 قسط : ١٨ اَنفَاسِ قدسیہ 26 1
38 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 26 37
39 عزم و اِستقلال : 26 37
40 قسط : ٤ پردہ کے اَحکام 31 1
41 عورت کے لیے پردہ عقل و فطرت کا مقتضی ہے 31 40
42 بے پردگی کا ثمرہ : 31 40
43 عورتوں کو آزادی دینے کی خرابی : 33 40
44 بے حیائی ،بے باکی و بے غیرتی : 34 40
45 بے پرد گی کے حامی : 34 40
46 مرد عورت کے درمیان مساوات کا بھوت : 35 40
47 کیا پردہ تعلیم اَور دُنیوی ترقی کی راہ میں رُکاوٹ ہے : 35 40
48 کیا پردہ عورت کے لیے قیدو ظلم ہے؟ 36 40
49 پردہ میں غلو اَور عورت پر ظلم، مردوں کی ذمہ داری : 37 40
50 پردہ کی وجہ سے بے خبری اَور بھولے پن کا شبہ : 37 40
51 وفیات 38 1
52 محرم الحرام کی فضیلت 39 1
53 قسم اَوّل کے منکرات : 41 52
54 قسط : ٤،آخری صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 45 1
55 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 45 54
56 پیغمبر علیہ السلام کی حد درجہ تعظیم : 45 54
57 حکمِ نبوی کی فوری تعمیل : 47 54
58 ہمارے آقا ۖ کا تو طریقہ یہی ہے : 47 54
59 نقوشِ قدم کی تلاش : 48 54
60 ذِکرِحَسنَین رضی اللہ عنہما 50 1
61 اَکابر کی نظر میں تجوید کی اہمیت 51 1
62 مدرسہ صولتيه مکہ مکرمہ کا آغاز : 51 61
63 مدرسہ صولتیہ کی تعمیر : 51 61
64 حضرت قاری عبداللہ صاحب مکی کی آمد : 52 61
65 آغازِ تدریس : 52 61
66 حضرت قاری عبداللہ صاحب مکی کی مدرسہ سے محبت : 53 61
67 لمحہ فکریہ : 53 61
68 شیخ القراء اِبراہیم سعد مصری : 53 61
69 شیخ علی الضبّاع مصری : 53 61
70 خواب میں حضرت علی مرتضی کی اَذان : 54 61
71 حضرت قاری محمد شریف صاحب : 54 61
72 اِرتقائی اہم اصول : 54 61
73 ہفتہ وار اِصلاحی محفلِ قراء ٰت : 54 61
74 ایک محفل کا واقعہ : 55 61
75 55 61
76 حضرت مولانا اَشرف علی صاحب تھانوی : 56 61
77 دُکھی دِل کی بات : 56 61
78 ہر بیماری کا علاج ہے : 57 61
79 تجوید کی اہمیت : 57 61
80 دُوسرا واقعہ : 57 61
81 تجوید وہ جادُو ہے جو سر چڑھ کے بولے : 58 61
82 بندہ راقم تقی : 58 61
83 نئے اِسلامی سال کاپیغام 59 1
84 دُنیاکی حقیقت : 59 83
85 منزل کیاہے ؟ 61 83
86 ہماری مصروفیات کیاہیں ؟ 62 83
87 اَخبار الجامعہ 63 1
88 بقیہ : نئے اِسلامی سال کا پیغام 64 83
Flag Counter