ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2011 |
¾اكستان Ù |
|
تو یہ جب حاضرِ خدمت ہوئے تو مسلمان ہوگئے اَور اِسلام قبول کرنے کے بعد پھر رسول اللہ ۖ نے اِنہیں فرمایا تھا کہ آپ اپنے گھر چلے جائیں وہاں(اِس عقیدہ کے ساتھ ) یہ یہ عبادتیں ہیں یہ کرتے رہیں اَور معاملات جو بھی ہوئے ہوں گے وہ اِرشاد فرمادیے کچھ چیزیں ایسی ہیں جو پہلے سے دُنیا بھر میں معروف چلی آرہی ہیں ظلم کرنا، کسی کا مال چھینا وغیرہ وغیرہ یہ سب چیزیں ہمیشہ سے بری سمجھی جاتی رہی ہیں اِنسان اِنہیں برا ہی سمجھتا ہے تو اِنہوں نے اِنہیں ہدایت کی کہ وہاں چلے جاؤ اَور اِس طرح سے کرتے رہو اَور کسی کو بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہے کوئی کہ تم بتلاؤ کہ مسلمان ہوئے ہویا نہیں گویا اِس قسم کی ہدایات آقائے نامدار ۖ نے اِنہیں دے دیں اَور رُخصت کرنا چاہا، تو اِنہوں نے کہا جواب میں کہ میں تو ضرور علی الاعلان سب کو کہوں گا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں تو یہ اِن کے جذبات تھے رسول اللہ ۖ نے نہیں فرمایا کہ تم یہ کرو بلکہ اِن کے اپنے جذبات تھے یہ کہ میں ایسے کروں۔ کفار کی تنگ نظری اَورعدمِ برداشت : چنانچہ اَگلے دِن اِنہوں نے اِسی طرح کیا اَور لوگوں نے جب دیکھا کہ یہ مسلمان ہوگئے تو وہ ٹوٹ پڑے اِن پہ، مارنا شروع کردیا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آ کے چھڑا یا اِنہیں مگر اِس طرح نہیں کہ میری خاطر چھوڑ دو ایسے نہیں چھوڑنے والے تھے یہ لوگ کسی کی خاطر کسی کے لحاظ سے چھوڑ نے والے نہیں تھے پورے بد لحاظ تھے اِن کو اِن کا فائدہ سُجھایا کہ دیکھو اگر تم نے اِس طرح مار ڈالا اِنہیں تو پھر تمہارے فلاں راستے سے گہیوں آتا ہے وہ آنا بند ہوجائے گا کیونکہ وہ تو یہی صورت تھی قبیلوں میں لڑا ئی چھڑ جاتی تھی راستے بند ہوجاتے تھے قصہ ہی ختم ہوجاتا تھا، جب تک مکافات نہ کریں ایک جھگڑا کھڑا ہوجائے گا بہت تکلیف کا باعث ہوگا حضرت اَبوذر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی کہا بالکل نہیں آسکے گا بہرحال آگئے پھر ٹھہرے، اَگلے دِن پھر اِسی طرح علی الاعلان اُنہوں نے تبلیغ بھی کی اِظہار بھی کیا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں پھر اِسی طرح سے اُن کو مارا پھر اِسی طرح حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بچایا۔ جیسے میں نے آپ کو نقشہ بتایا ہے کعبة اللہ کا اَور اُس کے گرد صرف میدان کا اَور اُس کے گرد مکانات آس پاس اِدھر اُدھر آبادی تو وہ(حضرت عباس) آگئے دونوں دفعہ اَور وہ ہمیشہ سے ہمدرد رہے ہیں رسول اللہ ۖ کے اَور اِسلام کے خیر خواہ رہے ہیں۔