ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2011 |
اكستان |
|
قسط : ٤،آخری صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل ( حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری،اِنڈیا ) حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات پیغمبر علیہ السلام کی حد درجہ تعظیم : حضراتِ صحابہث کی نظر میں پیغمبر علیہ الصلوة والسلام کی عظمت اِس قدر تھی کہ سوائے قریبی رُفقاء سیّدنا حضرت اَبوبکر صدیق اَور سیّدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے کسی کو آپ ۖسے نظرمِلاکر گفتگو کرنے کی ہمت نہ ہوتی تھی اَور جب وہ آپ ۖ کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے تو اِس قدر اَدب سے بیٹھتے تھے گویاکہ اِن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ (حیاة الصحابہ ٣٠٥٢) وارفتگی کا ایک اَنداز یہ بھی تھا کہ جب آپ ۖ وضو فرماتے یا تھوکنے کا اِرادہ فرماتے تو حاضرین صحابہث کوشش کرتے کہ آپ ۖکے وضو کا پانی اَور مبارک لعابِ دہن زمین پر گرنے کے بجائے کسی نہ کسی صحابی ص کے ہاتھ پر پڑے اَور پھر جس کو یہ سعادت ملتی وہ اِس کو اپنے چہرے اَور بدن پر لگالیتا۔ ایک مرتبہ نبیٔ اَکرم ۖنے حضرات ِصحابہ ث سے پوچھا کہ ''تم لوگ آخر یہ عمل کیوںکرتے ہو؟'' صحابہ ث نے عرض کیا کہ ہم اِس سے برکت حاصل کرنا چاہتے ہیں اِس پر پیغمبر علیہ الصلوة والسلام نے یہ جامع ترین نصیحت فرمائی کہ ''جو شخص اللہ تعالیٰ اَور اُس کے رسول ۖ کا محبوب بننا چاہتا ہے تو اُسے چاہیے کہ (١) ہمیشہ سچ بولا کرے (٢) اَمانت اَدا کرے (٣)اَور اپنے پڑوسی کو نہ ستائے''۔ (حیاة الصحابہ ٣٠٥٢) اِسی منظر کی تصویر کشی عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اِن تاریخی جملوں سے کی تھی : وَاللّٰہِ مَا تَنَخَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ نُخَامَةً ِلَّا وَقَعَتْ فِیْ کَفِّ رَجُلٍ مِّنْہُمْ، فَدَلَکَ بِہَا وَجْہَہ وَجِلْدَہ وَِذَا اَمَرَہُمْ اِبْتَدَرُوْا اَمْرَہ وَاِذَا تَوَضَّاَ کَادُوْا یَقْتَتِلُوْنَ