ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2011 |
اكستان |
|
عورت میں عقل کم ہوتی ہے اَور جس میں عقل کم ہو اُس سے ہر کام میں غلطی کرنے کا احتمال ہے لہٰذا اِس کے واسطے سلامتی اِسی میں ہے کہ وہ زیادہ عقل والے کے تابع ہو۔ حق تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے کہ عورتوں کو آزادنہیں بنایا ورنہ اِن کا کوئی بھی کام درست نہ ہو تا، دین و دُنیا سب کاموں میں اِن سے غلطیاں ہوا کرتیں۔ بے حیائی ،بے باکی و بے غیرتی : آج کل بے پرد گی کی زہریلی ہوا چل رہی ہیں بڑی ہی خطرناک چیز کی طرف مخلوق جارہی ہے۔ اِس کے نتائج نہایت ہی خراب نکلیں گے۔ بے حیائی کا بازار تو پہلے ہی سے کھلا ہوا تھا اَب بے باکی بھی شروع ہوگئی ہے اَور غضب یہ ہے کہ قرآن و حدیث سے اِس پر اِستدلال کرتے ہیں (یعنی بے پرد گی کے جواز پر ) جو سراسر دین کی تحریف ہے۔ یہ سب بے حیائی کے کرشمے ہیں۔ بڑے ہی فسق و فجور اَور اَور اِلحاد کا زمانہ ہے چاروں طرف سے دین پر حملے ہو رہے ہیں ہر شخص نفسانیت پر اُترا ہوا ہے جانوروں کی طرح آزاد ہیں بالکل بے مہار ہیں جو چاہے کریں کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں برے کام اچھے سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا سے خیرو برکت رُخصت ہوگئی ،آئے دِن اَرضی وسماوی (زمین و آسمان سے) بلاؤں کا ظہور ہو رہا ہے لیکن عبرت پھر بھی نہیں، حق تعالیٰ سب کو ہدایت فرمائیں،آمین۔ بے پرد گی کے حامی : جتنے لوگ بے پردگی کے حامی ہیں سب میں دو چیزیں مشترک ہیں :بے حیائی اَور عیاشی ۔واقعی ایسے ہی لوگ بے پردگی کے حامی بنے ہوئے ہیں جن کو دین سے بے تعلقی ہے لیکن اگر اِن میں دین نہیں تب بھی غیرت بھی تو آخر کوئی چیز ہے۔ جن لوگوں نے پردہ اُٹھا دیا ہے اَور بے پردگی کے حامی ہیں یہ لوگ بے غیرت ہیں۔ اَحکامِ شرعیہ کے علاوہ طبعی غیرت بھی تو اِس سے مانع ہے (یعنی روکتی ہے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بے غیرت بے حیاء پہلے سے ہی تھے اِسی لیے اِنہوں نے دین کو دُنیا کی خواہشات اَور نفسانیات کا تابع بنا دیا ،کیا یہ اِسلام ہے۔ بے پردگی کے بہت برے نتائج ہو رہے ہیں۔ یو رپ میں اِس بے پردگی کی بدولت عورتیں اِس قدر خراب اَور برباد ہو رہی ہیں کہ مرد عاجز اَور پریشان ہیں ،کچھ نہیں کر سکتے۔