Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2011

اكستان

24 - 65
س  :  بینکاری سسٹم سودی رائج کیا جائے گا یا غیر سودی؟ 
ج  :  بینکوں کا نظام غیر سودی ہوگا چاہے مضاربت کی شکل اِختیار کی جائے۔ پی۔ ایل کی بنیاد پر یا کرنٹ اَکاونٹ میں رقم پر کسی حساب سے صاحب ِمال سے بینک اُس کے مال کی حفاظت کی رقم لیتا رہے اِس سے اپنے اَخرجات میں مدد لے، بینک اگر اِس کام کی کوئی مناسب اُجرت لے تو یہ اُس کا حق ہے۔ 
س  :  آج کے دَور میں بین الاقوامی سطح پر قرضوں کا تمام لین دین سود کی بنیاد پر ہے آیا      اِسلامی اسٹیٹ بین الاقوامی سطح پر اپنا لین دین بند کردے گی  ؟  اگر بند کردے گی تو کیا یہ معاشی لحاظ سے اسٹیٹ پر بوجھ نہیں ہوگا  ؟ 
ج  :  بین الاقوامی لین دین میں شرعًا یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ جس ملک سے لین دین ہو رہا ہے وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم ۔اگر وہ ملک غیر مسلم ہے اَور وہ ہم سے سود پر لین دین کرتا ہے تو مسلمان ملک کے لیے اُس سے سودی لین دین جائز ہے، آغاز ِ اِسلام سے یہ مسئلہ اِسی طرح چلا آرہا ہے۔ 
س  :  اِسلام میں مساوات کا تصور کہا ں تک ہے  ؟ 
ج  :  اِسلام میں مساوات کی بہت ہی تاکید سے تعلیم دی گئی ہے اَور سخت اَحکام جاری فرمائے گئے ہیں کوئی شخص دُوسرے کی توہین نہیں کر سکتا گالی نہیں دے سکتا تہمت نہیں لگا سکتا مار نہیں سکتا۔ اِسلام میں   عزت ِ نفس کو بہت اہمیت دی گئی ہے حضور علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے کہ تمہاری آبروئیں تمہارے مال ایک دُوسرے کے لیے ہر جگہ اِسی طرح حرام ہیں جیسے آج حج کے دِن اِس مہینہ اَور اِس شہر مقدس میں۔ 
٭  اَور اِس معنی میں مساوات کہ بیٹا یا بیٹی باپ کی برابری کرے اِسلام میں نہیں ہے ۔
٭  کسی کو خاندان کی وجہ سے رنگ، نسل اَور وطن کی وجہ سے کسی دُوسرے پر فضیلت نہیں ہوگی سب برابر ہیں  لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ  کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں ہے۔ 
اِسلام نے بڑائی ''تکبر'' کو حرام قرار دیا ہے اَور مساوات بلکہ اِکرام اَور اِیثار کی تعلیم دی ہے۔  سورة الحشر پ٢٦ آیت ٩ میں ہے کہ اپنے اُوپر ترجیح دیتے ہیں چاہے وہ خود شدید ضرورت مند ہوں۔ 
٭  البتہ یہ صورت کہ حکومت سب کو ایک سارَاشن دیا کرے قحط کے زمانہ میں جائز ہے ورنہ نہیں۔
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف اول 4 1
4 درس حديث 6 1
5 حرم مکہ کی اِبتدائی حالت : 7 4
6 حضرتِ عباس چاہ زم زم کے متولی : 7 4
7 حضرت اَبو ذر کے اِسلام لانے کا قصہ : 8 4
8 حضرت عمر نے دِیوار بنوائی : 8 4
9 کفار کی تنگ نظری اَورعدمِ برداشت : 9 4
10 بنو اِسرائیل کی مختصر تاریخ : 10 4
11 بنی اِسرائیل پر اللہ کی پکڑ : 10 4
12 اَنصار کی مختصر تاریخ : 11 4
13 یمن سے نقل مکانی : 11 4
14 یہودی سود خور، ظالم ،بے حیاء : 11 4
15 بے حیاء یہودیوں کی خوش فہمی : 12 4
16 اَنصار کا قبولِ اِسلام میں سبقت لے جانا : 12 4
17 تعلیم ِدین کے لیے صحابی کی مدینہ منورہ آمد : 12 4
18 ہجرت کیوں فرض ہوئی؟ 13 4
19 یمن کے حکمران کی آمد ،آپ کے لیے مکان بنایا اَور وصیت نامہ لکھا : 14 4
20 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٧ 15 1
21 اِسلام کا اِقتصادی نظام 15 20
22 سوالات و جوابات 15 20
23 اِقتصادی اُصول 16 20
24 سیاسیات اَور نظام ِ حکومت کے بنیادی اُصول 18 20
25 بنیادی حقوق 18 20
26 (١٨) مذہبیات : 19 20
27 جہاد 20 20
28 تشریحات و اِقتباسات 20 20
29 کمیونزم :(COMMUNISM) 20 20
30 سوشلزم : (SOCIALISM) 21 20
31 کیپٹیلزم : (CAPITALISM) 21 20
32 اِمپیریلزم : (IMPERIALISM) 21 20
33 قرآنِ کریم میں عادت اللہ بتلائی گئی ہے : 22 20
34 بینکاری سسٹم سودی رائج کیا جائے گا یا غیر سودی؟ 24 20
35 اِسلام میں مساوات کا تصور کہا ں تک ہے 24 20
36 کیا غلامانہ تصور اِسلام کا صحیح ہے 25 20
37 قسط : ١٨ اَنفَاسِ قدسیہ 26 1
38 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 26 37
39 عزم و اِستقلال : 26 37
40 قسط : ٤ پردہ کے اَحکام 31 1
41 عورت کے لیے پردہ عقل و فطرت کا مقتضی ہے 31 40
42 بے پردگی کا ثمرہ : 31 40
43 عورتوں کو آزادی دینے کی خرابی : 33 40
44 بے حیائی ،بے باکی و بے غیرتی : 34 40
45 بے پرد گی کے حامی : 34 40
46 مرد عورت کے درمیان مساوات کا بھوت : 35 40
47 کیا پردہ تعلیم اَور دُنیوی ترقی کی راہ میں رُکاوٹ ہے : 35 40
48 کیا پردہ عورت کے لیے قیدو ظلم ہے؟ 36 40
49 پردہ میں غلو اَور عورت پر ظلم، مردوں کی ذمہ داری : 37 40
50 پردہ کی وجہ سے بے خبری اَور بھولے پن کا شبہ : 37 40
51 وفیات 38 1
52 محرم الحرام کی فضیلت 39 1
53 قسم اَوّل کے منکرات : 41 52
54 قسط : ٤،آخری صحابہث کی زِندگی اَور ہمارا عمل 45 1
55 حضرات ِصحابہث کی قابلِ تقلید اِمتیازی صفات 45 54
56 پیغمبر علیہ السلام کی حد درجہ تعظیم : 45 54
57 حکمِ نبوی کی فوری تعمیل : 47 54
58 ہمارے آقا ۖ کا تو طریقہ یہی ہے : 47 54
59 نقوشِ قدم کی تلاش : 48 54
60 ذِکرِحَسنَین رضی اللہ عنہما 50 1
61 اَکابر کی نظر میں تجوید کی اہمیت 51 1
62 مدرسہ صولتيه مکہ مکرمہ کا آغاز : 51 61
63 مدرسہ صولتیہ کی تعمیر : 51 61
64 حضرت قاری عبداللہ صاحب مکی کی آمد : 52 61
65 آغازِ تدریس : 52 61
66 حضرت قاری عبداللہ صاحب مکی کی مدرسہ سے محبت : 53 61
67 لمحہ فکریہ : 53 61
68 شیخ القراء اِبراہیم سعد مصری : 53 61
69 شیخ علی الضبّاع مصری : 53 61
70 خواب میں حضرت علی مرتضی کی اَذان : 54 61
71 حضرت قاری محمد شریف صاحب : 54 61
72 اِرتقائی اہم اصول : 54 61
73 ہفتہ وار اِصلاحی محفلِ قراء ٰت : 54 61
74 ایک محفل کا واقعہ : 55 61
75 55 61
76 حضرت مولانا اَشرف علی صاحب تھانوی : 56 61
77 دُکھی دِل کی بات : 56 61
78 ہر بیماری کا علاج ہے : 57 61
79 تجوید کی اہمیت : 57 61
80 دُوسرا واقعہ : 57 61
81 تجوید وہ جادُو ہے جو سر چڑھ کے بولے : 58 61
82 بندہ راقم تقی : 58 61
83 نئے اِسلامی سال کاپیغام 59 1
84 دُنیاکی حقیقت : 59 83
85 منزل کیاہے ؟ 61 83
86 ہماری مصروفیات کیاہیں ؟ 62 83
87 اَخبار الجامعہ 63 1
88 بقیہ : نئے اِسلامی سال کا پیغام 64 83
Flag Counter