ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2011 |
اكستان |
|
ہر بیماری کا علاج ہے : اگر مہتمم حضرات اَور اَساتذہ کرام طلباء کی ذہن سازی کریں اَور نظام ِ تعلیم میں تجوید کو باوقار مقام دیں تو اِس کا رواج ہو سکتا ہے۔ تجوید کی اہمیت : قاری محبوب علی صاحب لکھنوی نے فرمایا نبی کریم ۖ نے حضرت قاری عبدالرحمن صاحب مؤلف فوائد مکیہ کو حکم دیا کہ ہندوستان جا کر کام کرو، آپ مکہ مکرمہ سے تشریف لائے اَور تا زِندگی ہندوستان میں کا م کیا۔ دُوسرا واقعہ : حضرت مربی قاری فضل کریم صاحب بانی و صدر مدرس مدرسہ تجوید القرآن لاہور کو نبی کریم ۖ نے کچھ فرمایا جس کا مفہوم تھا کہ ہزارہ کی طرف توجہ کرو۔ آپ نے حضرت سیٹھی محمد یوسف صاحب کو بُلا یا اُنہوں نے بھی یہی مفہوم لیا ،یہ اَپریل ١٩٥٥ء کی بات ہے۔ یہ حضرات اُسی دِن کچھ طلباء اَور کچھ مدرسین کو لے کر اَیبٹ آباد روانہ ہوئے۔ اُن حضرات کی فکر اَور لگن سے لاتعداد بڑے بڑے مدرسین تیار ہوئے جو پورے سعودیہ اَور دیگر ملکوں میں قرآن کی قابلِ قدر خدمت کر رہے ہیں۔ اگر شریعت میں تجوید کی اہمیت نہ ہوتی تو نبی کریم ۖ اِن حضرات کو متوجہ نہ فرماتے۔ حضرت قاری عبداللہ صاحب مکی کااَنداز ِ تلاوت خاص قسم کا تھا جس میں تَرْعِیْدْ یعنی آواز کو نچانا اَور تَغَنِّیْ یعنی بلاوجہ غنات کرنا اَور تَصَنُّعْ یعنی پڑھنے میں تکلف کرنا ،یہ بیماریاں نہیں تھیں اَور عربی لہجوں کا اِن چیزوں سے کوئی تعلق نہیں اُن کی اپنی شان ہے۔ حضرت قاری عبداللہ صاحب مکی کے دوست کی جدہ میں دُکان تھی جب کبھی تشریف لے جاتے تو دوست کے اِصرار پر تلاوت کرتے۔ ایک مرتبہ اُسی دُکان پر تلاوت کر رہے تھے تلاوت کیا تھی جادُو تھا کہ سننے والوں کا ہجوم تھا۔ اُن میں ہندو بھی تھے تلاوت ختم ہوئی تو ایک ہندو مجمع کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اَور قاری صاحب سے کہا کہ مجھے مسلمان کیجیے۔ وہ تلاوت کی برکت سے مسلمان ہوا اَور اَبدی عذاب سے بچ گیا۔