ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2011 |
¾اكستان Ù |
|
''مولانا کا ایک بہت بڑا کارنامہ جس کی اہمیت کا احساس بہت کم لوگوں کو ہے یہ ہے کہ ١٩٤٧ ء کے ہنگامے اَوراُس کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی بقاء وقیام کا ایک بڑا ظاہری سبب مولانا ہی کی ہستی تھی ، یہ وہ وقت تھاکہ بڑے بڑے کوہ اِستقلال جنبش میں آگئے تھے سب یہی سمجھتے تھے کہ اَب ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ میں دوہی چار دَور ایسے گزرے ہیں جب مسلمانوں کی اَوراِسلام کی بقا ء کاسوال آگیا ہے۔ ١٩٤٧ ء کا ہنگامہ ہندوستان کے مسلمانوں کے حق میں اِسی نوعیت کاتھا۔اَصل مسئلہ سہارنپورکے مسلمانوں کاتھا سارادَار ومدار اِن پر تھا، یہ اپنی جگہ چھوڑتے تو یو پی (U.P)کے مسلمانوں کے قدم لغزش میں آجاتے اَورسہارنپورکے مسلمانوں کااِنحصار ساراکاسارا دوہستیوں یعنی حضرت مولاناعبدالقادر صاحب رائیپور ی اَورحضرت مدنی پرتھا ۔ اُس وقت مسلمانوں کی قسمت کافیصلہ جمناکے کنارے ہوناتھا لیکن یہ دوصاحب ِعزم مجاہد بندے وہاں جمع رہے اَور اُنہوں نے گھٹنے ٹیک دیے، ایک رائے پورکی نہرکے کنارے بیٹھ گیا اَور ایک دیوبند میں۔ آپ کو معلوم ہو گا یہ رائے پور اَور دیوبند مشرقی پنچاب کے اُن اِضلاع میں سے ہیں جہاں کشت وخون کا ہنگامہ گرم تھا لیکن یہ اللہ کے بندے پورے عزم واِستقلال سے جمے رہے اَوراِنہوں نے مسلمانوں کویقین دِلایا کہ اِسلام کو یہاں رہناہے اَوررہے گا ۔ اِنہوں نے کہا مسلمانوں کا یہاں سے نکلنا صحیح نہیں اگرتم مشورہ چاہتے ہو تو ہم مشورہ دیتے ہیں اَوراگرفتویٰ کی ضرورت ہے توہم فتویٰ دینے کوتیارہیں کہ اِس وقت یہاں سے مسلمانوں کاجانا درست نہیں ۔ اِس وقت جو ہندوستان میں مسلمان قائم ہیں یہ اِن ہی بزرگوں کا اِحسان ہے۔ ہندوستان میں اِس وقت جو مسجدیں قائم ہیں اَور اُن میں جو نمازیں پڑھی جا رہی ہیں اَور پڑھی جاتی رہیں گی یہ اِن ہی کا طفیل ہے۔ ہندوستان میں جتنے مدرسے اَور خانقاہیں اَور