ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2009 |
اكستان |
|
عصبیت ......... سوء خاتمہ کا پیش ِ خیمہ : اپنے قلب کا جائزہ لیتے ر ہو کہ عصبیت کا کوئی ذرہ دِل میں تو نہیں ہے۔ اگر عصبیت کا ایک ذرہ بھی دِل میں ہوا تو سوء ِخاتمہ کا اَندیشہ ہے۔ ایک غزوہ میں ایک شخص بہت بہادری سے لڑ رہا تھا۔ ایک صحابی نے اُس کی تعریف کی تو حضور ۖ نے فرمایا یہ جہنمی ہے۔ وہ صحابی اِس کے پیچھے لگ گئے۔ آخر میں دیکھا کہ وہ زخمی ہوگیا اور زخموں کی تاب نہ لا کر اپنی تلوار سے اُس نے خود کشی کر لی۔ صحابی نے آکر یہ واقعہ حضور ۖ سے عرض کیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ ۖ یہ کیا ماجرا ہے؟ حضور ۖ نے اِرشاد فرمایا کہ یہ شخص اِسلام کے لیے نہیں عصبیت کے لیے لڑ رہا تھا کہ میرے قبیلہ کا نام ہو گا۔ پس خوب سمجھ لو کہ عصبیت جہنم میں لے جانے والی ہے، زبان اَور رنگ کو حقیر سمجھنا جہنم میں جانے کا سامان کرنا ہے۔ اِس مضمون کو پھیلاؤ، اِس کا بہت فائدہ ہوگا، آج کل اِس کی ہرجگہ اشاعت کی ضرورت ہے۔ ہر مسلمان اِس مضمون کو آگے پھیلائے۔ کسی زبان کو حقیر نہ سمجھو، زبان اور رنگ کی وجہ سے کسی کو حقیر سمجھنا دلیل ہے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی نشانی کا اِنکار کر رہا ہے۔ جتنے آدمی یہاں موجود ہیں سب اِس مضمون کو پھیلائیں۔ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ آدمی اپنے باپ کی نشانی کی عزت کرتا ہے، اُس کو دیکھ کر باپ کو یاد کر کے روتا ہے کہ یہ میرے ابا کی نشانی ہے۔ وہ بندہ کتنا نالائق ہے جو اللہ کی نشانی کو جھگڑے کا ذریعہ بناتا ہے۔ ساری دُنیا کے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں چاہیں لندن کے ہوں، چاہے یوگنڈا کے ہوں۔ کالے گورے اللہ تعالیٰ بناتے ہیں، خود نہیں بنتے، اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والے ہیں۔ رنگ وزبان کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔ قرآن ِپاک کی کسی آیت پر ایمان نہ لائے وہ قرآن پاک کااِنکار کرنے والا ہے۔ زبانوں اَوررنگوں کا اِختلاف ذریعہ معرفت ِ الٰہیہ ہے : اَب ایک نئی بات سنو! جو شاید مجھ ہی سے سنو گے۔ ملاوی میں ایک رات دو بجے میری آنکھ کھل گئی تو کتا بھونک رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ کیا بات ہے کہ یہاں کا کتا بھی اُسی زبان میں بھونکتا ہے جس زبان میں کراچی کا کتا بھونکتا ہے ۔ کتے بلی اور تمام جانور ہر ملک کے ایک ہی طرح بولتے ہیں۔ انگلینڈ کا کتا یہ نہیں کہتا I am a dog اور اِنگلینڈ کی بلی یہ نہیں کہتی I am a cat بلکہ ہر ملک کی بلی میاؤں ہی کہے گی