رسائی ان میں سے ایک فیصد کی بھی نہیں ہے۔
تہذیب حاضر کی ہرکل ٹیڑھی ہے، عورت اپنے اہل خانہ کی خدمت کرلے تو یہ دقیانوسیت اوررجعت پسندی قرار پائے مگر وہی عورت اگر برسر عام ہوٹلوں میں ، ہوائی جہازوں میں ، پبلک دکانوں میں ویٹر، روم اٹنڈنٹ، ایئر ہوسٹس اور سیلز گرل بن کر خدمت کرے اور لوگوں کی ہوسناک نگاہوں کا ہدف بنے تو یہ آزادی ہے، جدت واعزاز ہے۔
ماں ساٹھ سال سے زیادہ عمر کو پہنچ جائے تو اسے معذورین کے لئے موجود خاص مکان میں منتقل کردیا جاتا ہے، نرسیں اس کی دیکھ بھال کرتی ہیں ، نتیجۃً ماں محبت، خلوص اور بے غرض خدمت سے محروم ہوجاتی ہے، وہ کس مپرسی اور بے چارگی کا شکار ہوکر موت کی منتظر رہتی ہے، کسی بیماری کا شکار ہوجانے پراسے ہاسپٹل میں ہی شفٹ کردیا جاتا ہے اور ہاسپٹل کا عملہ دیکھ ریکھ کرتا ہے، اولاد کی ذمہ داری صرف مصارف ادا کرنے کی ہی رہ جاتی ہے، غرض یہ کہ مغربی نظام نے آزادی، جدت اور مساوات کے نام پر پورا فیملی سسٹم تباہ کردیا ہے، اسلامی خاندانی امتیازات کی خالصیت پر تیشے چلانے کی کوشش کی ہے۔
اسی مغربی نظام اور پروپیگنڈہ کی کشش ہے کہ زنا عام ہورہا ہے، زن وشو کے تعلقات بگڑرہے ہیں ، خواتین ماں بننے سے گریزاں ہیں اور پورا معاشرہ بے حیائی کی آخری حدیں چھورہا ہے، تبادلۂ ازواج کی بدترین رسم بھی جاری ہے، غیر قانونی بچے بڑھتے جارہے ہیں ، ناجائز رشتے بڑھتے جارہے ہیں ، خواہش نفس کی ہر طرح تکمیل کو سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے، طرفہ تماشا یہ ہے کہ مغرب زدہ افراد اپنے نظام کی تمام تر خرابیوں اورمفاسد کا اندازہ کرنے کے باوجود بھی اسلام مخالف حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں اور جگہ جگہ یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو قید کردیا ہے، اسلام میں خواتین کا کوئی احترام نہیں ، مساوات نہیں ، وہاں عورتوں کو سیکنڈ پوزیشن دی گئی ہے اور بہت بڑا ظلم کیا گیا ہے۔