ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2017 |
اكستان |
|
رہتی تھی اس لیے دریافت کیا کہ جبکہ گھر میں میری والدہ کے علاوہ اور کوئی نہیں تو کیا پھر بھی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے ؟) آپ نے فرمایا ہاں، پھر بھی اجازت چاہو ! اُس نے پھر عرض کیا کہ میں تو ہمیشہ گھر میں ان کے ساتھ رہتا ہوں ! ! آپ نے جواب میں پھر ارشاد فرمایاکہ اجازت حاصل کرو ۔ اُس نے پھر عرض کی کہ اَنِّیْ خَادِمُھَا میں تو اپنی والدہ کا خادم ہوں یعنی ہر وقت ہی ان کے کام کرتا رہتا ہوں ! ! ! آپ نے پھر فرمایا کہ تمہیں اجازت حاصل کرنی چاہیے اور آپ نے انہیں ایسی عجیب طرح سمجھایا کہ وہ فورًا مان گئے فرمایا کہ اَتُحِبُّ اَنْ تُرَاھَا عُرْیَانَةً ١ یعنی کیا تم اُسے ننگا دیکھنا پسند کروگے ؟ یعنی ہو سکتا ہے کہ وہ نہا رہی ہو یا کپڑے بدل رہی ہو اور تم بے کھنکارے یا بغیر زمین پر زور سے پائوں مارے یا بغیر آواز دیے داخل ہو تو وہ عریانی کی حالت میں ہو،اُنہوں نے عرض کیا نہیں میں اپنی والدہ کو ننگا دیکھنا پسند نہیں کرتا، آپ نے فرمایا بس پھر اجازت حاصل کرو اجازت کے بغیر اندر داخل نہ ہوا کرو کیونکہ جس طرح غیر کا اجاز ت کے بغیر اندر جانے میں بے پردگی یا دوسری خرابیوں کا اندیشہ ہے اسی طرح ہمیشہ رہنے والوں اور خاموں کے اجازت کے بغیر جانے میں بھی بے پردگی وغیرہ کا خدشہ ہے اس لیے اجازت چاہنی ضروری امر ہے البتہ اپنے گھر میں داخل ہونے کے لیے کھنکارنا یا زور سے پاؤں مارنا وغیرہ بھی کافی ہے جس سے یہ اندازہ ہوجائے کہ اندر داخل ہونے ہی والے ہیں تاکہ اگرکوئی اور پردہ والی عورت بھی گھر میں آئی ہوئی ہوتو گھر والے منع تو کر سکیں اور بے پردگی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سرورِ کائنات ۖ کے بتلائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے کی توفیق بخشے آخرت میں آنحضرت ۖ کا ساتھ نصیب کرے ۔ ٢وََصَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہِ وَاَصْحَابِہِ اَجْمَعِیْنَ ------------------------------١ مشکوة شریف رقم الحدیث ٤٦٧٤ ۔ ٢ بحوالہ ہفت روزہ خدام الدین لاہور ٧ مارچ ١٩٦٩ء