ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2017 |
اكستان |
|
شیخ محمد کی تحریر : شیخ محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسواک کے فضائل میں ایک سو سے زائد احادیث منقول ہیں، پس تعجب ہے اُن لوگوں پر اور اُن فقہاء پر جو اِس سنت (مسواک) کو باوجود احادیث کے کثرت کے ساتھ منقول ہونے کے ترک کرتے ہیں ،یہ بڑا خسارہ ہے۔مسواک کے آداب : مسواک اگرچہ سنت ہے فرض یا واجب نہیں مگر اِس کے باوجود اس کے آداب و مستحبات کی رعایت نہایت ضروری ہے اس میں تغافل و تکاسل نقصان دہ ہے علماء نے لکھا ہے :مَنْ تَھَاوَنَ بِالْآدَابِ حُرِمَ السُّنَنَ وَمَنْ تَھَاوَنَ بِالسُّنَنِِ حُرِمَ الْفَرَائِضَ وَمَنْ تَہَاوَنَ بِالْفَرَائِضِ حُرِمَ الْآخِرَةَ۔ '' جو شخص آداب کی ادائیگی میں تہاون( سستی )کرتا ہے وہ سنن سے محروم کر دیا جاتا ہے اور جو شخص سنن کے ساتھ تہاون کرتا ہے وہ فرائض سے محروم کردیا جاتا ہے اور جو شخص فرائض کے بارے میں تہاون کرتا ہے وہ آخرت سے محروم کردیا جاتا ہے۔'' بستان العارفین میں فقیہ ابو اللیث فرماتے ہیں کہاجاتا ہے کہ اسلام کی مثال اُس شہر کی طرح ہے جس میں پانچ قلعے ہوں ایک سونے کا، دوسرا چاندی کا، تیسرا لوہے کا، چوتھا پختہ اینٹ کا، پانچواں کچی اینٹ کا، پس جب تک قلعے والے اس کچی اینٹ کے قلعہ کی حفاظت کرتے رہیں گے تو دشمن دوسرے قلعوں کے حاصل کرنے کی طمع نہ کرے گا اور جب وہ اس کی حفاظت نہ کریں گے تو یہ قلعہ خراب ہو جائے گا اور دشمن دوسرے قلعے کے حاصل کرنے کی طمع کرے گا اور پھر تیسرے کی یہاں تک کہ سارے قلعے خراب ہوجائیں گے، اسی طرح اسلام کے بھی پانچ قلعے ہیں ایک یقین، دوسرا اخلاص، تیسرا فرائض، چوتھا سنن، پانچواں آداب، پس جب تک انسان آداب کی حفاظت کرتا رہتا ہے تو شیطان طمع نہیں کرتا اور جب وہ آداب ترک کردیتا ہے تو شیطان سنتوں سے بہکانے کی طمع