Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2017

اكستان

16 - 66
''قبرستان میں ایک راستہ دیکھا، خیال ہے یہ بنا لیا گیاہے اُس راستہ پرنہ چلے اور اگریہ خیال نہیں ہوتا تو اُس پرچلنے میں مضائقہ نہیں ہے۔'' 
قبر سے تکیہ لگا کربیٹھنا بھی درست نہیں ہے، نہ مزار کے پاس سونا جائز ہے۔ (دُرِ مختار)
(٥)  جوتے اُتار دینا  :  
آنحضرت  ۖ  نے ایک شخص کو دیکھا جو قبروں کے بیچ میں جوتے پہنے ہوئے چل رہا تھا   آپ نے آواز دے کر فرمایا  :  یَا صَاحِبَ السِّبْتَیْنِ وَیْحَکَ اَلْقِ سِبْتَیْکَ۔  ١  
''اے جوتے والے  !  تیرا ناس ہو جوتے اُتاردے۔ ''
 قبرستان کی گھاس یا درخت اُکھاڑنایا کاٹنا جائز نہیں ہے البتہ سوکھی گھاس کاٹ سکتے ہیں۔  ٢
عرس  : 
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَةَ  سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ  ۖ  یَقُوْلُ  لَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قُبُوْرًا    وَلَا تَجْعَلُوْا قَبْرِیْ عِیْدًا وَصَلُّوْا عَلَیَّ فَاِنَّ صَلٰوتَکُمْ تُبَلَّغُنِیْ حَیْثُ کُنْتُمْ۔ ٣  
''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت  ۖ  نے فرمایا   مت بناؤ اپنے گھروں کوقبریں اور نہ بناؤ میری قبر کو عید  ٤   اور مجھ پر درود پڑھتے رہو کیونکہ تمہارا درود جہاں بھی تم پڑھو مجھے پہنچتا ہے۔'' 
قَالَ فِیْ مَجْمَعِ الْبِحَارِ فِیْ شَرْحِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ یَعْنِیْ قَوْلَہ لَا تَجْعَلُوْا قَبْرِیْ عِیْدًا اَیْ لَا تَجْعَلُوْا زِیَارَةَ قَبْرِیْ عِیْدًا اَوْقَبْرِیْ مَظْھَرَ عِیْدٍ ۔ اَیْ لَا تَجْتَمِعُوا لِزِیَارَتِہ اِجْتِمَاعَکُمْ لِلْعِیْدِ فَاِنَّہُ یَوْمُ لَھْوٍ وَ سُرُوْرٍ وَحَالُ الزِّیَارَةِ بِخِلَافِہ ۔کَانَ دَابُ    اَھْلِ الْکِتَابِ فَاَوْرَثَھُمُ الْقَسْوَةَ اَوْمِنْ ھَجِیْرِ عَبَدَةِ الْاَوْثَانِ حَتّٰی عَبَدُوا الْاَمْوَاتَ
''مجمع البحار میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے علامہ مصنف نے کہاہے کہ  میری قبر کو عید نہ بناؤ،اس کامطلب یہ ہے کہ میری قبر کی زیارت کرنے کو عید نہ بناؤ  یا میری قبرکو عید کامظہر نہ بناؤ۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح عید کے روز لوگ جمع ہوا 
------------------------------
  ١   ابو داود  وابن ماجہ بمعناہ    ٢   مراتی الفلاح   ٣   النسائی  کذا فی المشکوة    ٤   عرس ، میلا

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 اس شمارے میں 3 1
3 حرف آغاز 4 1
4 درسِ حدیث 7 1
5 گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت 7 4
6 حیاتِ مسلم 10 1
7 پیدائش سے وفات تک سنن مستحبا ت، بدعات و مکروہات 10 6
8 مزارات پر حاضری : 10 6
9 آدابِ زیارت : 11 6
10 ممنوعات اور مکروہات 11 6
11 (١) قبر پر چراغ جلانا : 11 6
12 (٢) قبر کو تبرکًا چھونا بوسہ دینا چہرہ ملنا وغیرہ : 12 6
13 (٣) قبر کو سجدہ کرنا قبر کے سامنے جھکنا یا قبر کا طواف کرنا : 13 6
14 قبروں کی بے ادبی اور قبرستان میں دنیاوی کام : 15 6
15 (٣) قبروں کے اُوپر چلنا : 15 6
16 (٥) جوتے اُتار دینا : 16 6
17 عرس : 16 6
18 عید ، مستحباتِ عید ، تعلیم ِدین اور مدارس کی اہمیت 19 1
19 تبلیغ ِ دین 22 1
20 اعمالِ ظاہری کے دس اُصول 22 19
21 (٩) نویں اصل ...... امر بالمعروف و نہی عن المنکر 22 19
22 واعظوں کی بے پروائی معصیت ہے : 23 19
23 گناہگاروں سے میل رکھنا اور معصیت کے درجہ میں بیٹھنا : 23 19
24 (١) علماء کا گناہوں پر سکوت کرنا : 24 19
25 (٢) سخت ایذا کے قوی اندیشہ پر نصیحت چھوڑنا : 24 19
26 فصل اوّل : 25 19
27 فصل دوم ، واعظ کو عالم باعمل ہونا چاہیے 26 19
28 فضائلِ مسواک 27 1
29 مسواک صحابہ کرام کی نظر میں 27 28
30 نصف ِ ایمان : 27 28
31 مسواک پر مداومت : 27 28
32 مسواک اور فصاحت : 27 28
33 مسواک سے حافظہ میں اضافہ : 28 28
34 مسواک اور شفا : 28 28
35 فرشتوں کا مصافحہ : 28 28
36 دس خصلتیں : 28 28
37 مسواک کی اہمیت علماء کے نزدیک 29 28
38 حضرت شبلی کا واقعہ : 29 28
39 علامہ شوکانی کی تصریح : 29 28
40 علامہ شعرانی کا عہد : 30 28
41 علامہ عینی کا اِرشاد : 30 28
42 شیخ محمد کی تحریر : 31 28
43 مسواک کے آداب : 31 28
44 مسواک کے اوقات : 32 28
45 وضو میں مسواک : 32 28
46 وضو میں مسواک کا وقت : 33 28
47 مسواک کی لکڑی : 33 28
48 مسواک پکڑنے کا طریقہ : 33 28
49 مسواک کرنے کی کیفیت : 34 28
50 اُنگلی سے مسواک : 34 28
51 عورتوں کی مسواک : 35 28
52 مسواک کی دعا : 35 28
53 برش اور مسواک : 35 28
54 منجن کا استعمال : 35 28
55 چند مختلف آداب : 36 28
56 فوائد ِ مسواک : 37 28
57 چند مسئلے : 38 28
58 بقیہ : تبلیغ دین 39 19
59 دل کی حفاظت 40 1
60 دل کے امراض : 41 59
61 دنیا کی محبت : 41 59
62 حرص : 42 59
63 حرص کا ایک مجرب علاج : 44 59
64 بخل : 45 59
65 ایک عبرتناک واقعہ : 47 59
66 زکوة کی ادائیگی میں بخل کرنے والوں کے لیے بھیانک سزا : 49 59
67 محرم الحرام کی فضیلت 53 1
68 تنبیہ : 54 67
69 جگر گوشۂ رسول خاتونِ جنت سیّدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کی عفت ماٰبی 55 1
70 خاتونِ جنت کا اعزاز : 56 69
71 عفت ماٰبی کے سلسلہ میں حضرت فاطمہ کا نظریہ : 58 69
72 گھر کے کام کاج کے بارے میں حضرت فاطمہ کا طرزِ عمل : 59 69
73 آخری درجہ کی پاکبازی : 61 69
74 شرم سے ڈوب مرنے کا مقام : 62 69
75 گھر کی عورتوں کی بے حیائی پر خاموش رہنے والے ملعون ہیں : 63 69
Flag Counter